لاشوں کے ٹکرے کتوں کے آگے ڈالے، کچھ فریج میں رکھے:اپنے خاندان کے قاتل کا اعتراف جرم

قاہرہ – العربیہ ڈاٹ نیٹ. مصر کی غربیہ گورنری میں تفتیشی حکام نے اپنے خاندان کو ذبح کرنے والے محمد الشرقاوی نامی مجرم کے اعترافی بیانات حاصل کیے ہیں۔ گرفتار ملزم نے دوران تفتیش تہرے قتل کے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی ماں، بہن اور چھوٹے بھائی کو ذبح کیا۔ ان کی لاشوں کو جلایا، انہیں کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ اس کے بعد کچھ کو کتوں کے آگے پھینکا اور کتوں کی خدمت کی۔ اس کا مزید کہنا کہ اس کا اس طرح قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔

ملزم نے بتایا کہ اس نے اپنا جرم صبح پانچ بجے انجام دیا۔اس نےاپنا چاقو نکالا اورپہلے اپنے بھائی پر وار کیا۔ جب اسے قتل کردیا تو پھر ماں اور اس کے بعد بہن کو ذبح کیا۔ وہ ذہنی طور پر بیمار نہیں ہے اور نہ ہی کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ اپنے جرم کو انجام دیتے ہوئے اس نے اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کی لاشوں کو کاٹنے کے لیے 20 چاقوؤں کا استعمال کیا۔ اس نے مزید کہا کہ مقتولین کی کچھ باقیات گھر کے فریج میں رکھ دیں اور دوسرا حصہ کتوں کو پھینک دیا۔

ملزم کے وکیل محمد السید حماد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ایک بیان میں کہا کہ تفتیش میں ملزم کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔اگرچہ اس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کسی عارضے میں مبتلا نہیں۔ میرے خیال میں کوئی سمجھدار انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا کہ وہ اپنے ہی خاندان کو قتل کرے اور لاشوں کے ٹکڑے کرکے انہیں کتوں کے آگے ڈال دے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے تفتیشی حکام سے کہا کہ وہ ملزم کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے اسے نفسیاتی ہسپتال بھیج دیں۔

چند روز قبل مصری حکام کو ایک خوفناک قتل عام کی اطلاع ملی تھی، جس میں ایک نوجوان نے اپنی ماں، بہن اورچھوٹے بھائی کو ذبح کیا۔ پھر ان پر آتش گیر مادہ انڈیل دیا۔

اس لرزہ خیز واردات کا علم اس وقت ہوا جب عزبہ رستم کے باشندوں ایک مکان کے اندر سے سخت بدبو محسوس ہوئی اور اہل خانہ بھی غائب تھے۔ انہوں نے حکام کو اطلاع دی، جب حکام نے گھر پر چھاپہ مارا تو 3 لاشوں کی موجودگی کا پتہ چلا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے اس گھر کے ایک شخص کو گرفتار کیا جس نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرتے ہوئے اس خوفناک خونی واردات کی لرزہ خیز تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading