قومی شہری رجسٹر کا کوئی جواز نہیں : سی پی آئی(ایم)

نئی دہلی ، 19 ستمبر (یو این ّآئی) مارکسی کمیونسٹ پارٹی ّآف انڈیا (سی پی آئی – ایم) نے آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ کے بعد قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے جواز کو بے کار بتاتے ہوئے کہا کہ معاشی بحران کے اس دور میں این آر سی پر خرچ کئے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔پارٹی کی اپنی پولیٹ بیورو کے دو روزہ میٹنگ کے بعد جمعرات کو روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ان کی پارٹی نے جموں و کشمیر کے معاملات سے لیکر این ّآر سی ، اناج کی تقسیم اور جنگلاتی قانون کے نفاذ کے بارے میں خور و خوض کیا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کی مخالفت کے لئے 20 ستمبر کو بائیں بازو کی جماعتوں کی قومی کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے

۔پارٹی نے کہا ہے کہ واجپائی حکومت میں این آر سی کا کام شروع ہوا تھا لیکن جب آدھار کا کام شروع ہوا تب اسے ترک کردیا گیا کیونکہ اس میں اعادہ کار ہے لیکن اب اسے دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن نے ووٹر کارڈوں کی آن لائن تصدیق کاکام شروع کردیا ہے لیکن ہر جگہ آن لائن سسٹم موجود نہیں ہے لہذا بہت سارے اصلی شہری اس سے محروم ہوجائیں گے۔ جب ایپک کارڈ کے ساتھ ووٹر لسٹ میں شامل لوگوں کا نام موجود ہو تو پھر قومی ووٹر لسٹ کا کوئی تک نہیں ہے۔ کیا یہ ایک ہی کام کا اعادہ نہیں ہے۔ پارٹی نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں شہریت ترمیمی بل لانے کا اعلان کیا ہے اور جو ہندو ووٹر ہیں انہیں چھوڑ کر مسلم ووٹرز کو شہریت سےمحروم کردیا جائے گا اورہندو ووٹر کو اس فہرست میں شامل کیا جائے گا۔انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ہر غریب آدمی کو ارزاں قیمت پر اناج کی فراہمی کریں تاکہ غذائی قلت کا خاتمہ ہوسکے کیونکہ ہندوستان غذائی قلت کی فہرست میں 119 میں سے 103 نمبر پر ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading