قدرتی غذاوں سے خود کو جوان کس طرح رکھیں

خواتین یوں تو اپنی جلد کی چمک کے لیے اور اسے تروتازہ رکھنے کے لیے ہزار جتن کرتی ہیں کبھی مختلف کریمیں اور اب تو انجکشن اور سرجری بھی کروانے لگی ہیں۔ تاکہ خود کو جوان رکھا جا سکے مگر یہ بات کم خواتین ہی جانتی ہیں کہ قدرتی غذائیں جیسے سبزیاں کتنی مفید ہیں اور اس کے علاوہ کیا کھانا ہے اسے کیسے پکانا ہے یہ سب بہت معنی رکھتا ہے۔
ایک امریکی ہربل سپیشلسٹ کا کہنا ہے کہ ” اگر آپ اپنے چہرے کو ہمیشہ توتازہ اور روشن رکھنا چاہتی ہیں اور آنکھوں میں چمک قائم رکھنا چاہتی ہیں تو ہر کام میں پھرتی اور جستی چاہتی ہیں تو قدرتی غذا کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔“خواتین گھر کے کھانوں میں بھی اب تیز مرچ مصالحہ جات زیادہ چینی وغیرہ استعمال کرنے لگی ہیں جس سے کھانے کی غذائیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
خواتین مندرجہ ذیل طریقے سے اپنی غذا کو غذائیت سے بھر پور رکھ سکتی ہیں۔
1۔ ہمیشہ وہ کھانے کھائیں جس میں نمک، چینی کم ملا ہو کیونکہ اس سے کیلوریز بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے جو موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔
2۔ جلد کو روشن رکھنے کے لیے مرغب اور پروٹین سے بھر پور غذاو?ں میں کمی لاتے ہوئے سبزیوں کو شامل کریں۔
تحقیق کے مطابق جو لوگ پھل سبزیاں زیتون کا تیل مچھلی کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں، بڑھاپے میں ان کے دماغ کے سکڑنے کا عمل سست ہو جاتا ہے اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
3۔ سبزیوں کو بطور ماسک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جلد کی خوبصورتی کے لیے ٹماٹر بہت مفید ہے۔ ٹماٹر کو نہ صرف ڈشز میں استعمال کرنا چاہیے بلکہ بطور سلاد روزانہ ٹماٹر کھانا چاہیے۔
4۔ روزمرہ تھوڑا بہت سونف اور زیرے کا استعمال معدے کو صاف رکھتا ہے ساتھ آنکھوں، بالوں ، جلد اور ناخنوں کے لیے بھی یہ مفید ہے۔
5۔خشک میوہ جات جیسے پستہ، آخروٹ، کاجو وغیرہ بھی چہرے کو تروتازہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
6۔گاجر ، انار کا جوس چہرے کی چمک کو بڑھا دیتے ہیں۔
الزائمر سوسائٹی کے ڈاکٹر جیمز پیکٹ کا کہنا ہے کہ ” اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ ایسی غذائیں جن میں مچھلی، سبزیاں، خشک میوے جات، پھل اور زیتون کا تیل وغیرہ شامل ہو وہ دماغ کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ برطانوی الزائمر ریسرچرسینٹر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں اگرچہ واضح نہیں کہ کس طرح یہ غذائیں بھولنے والی بیماری میں فائدہ مندہوں گی لیکن یہ غذائیں دماغ کو صحت مند ضرور بناتی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading