لوگوں سے گزارش کی ہےکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں تھانہ کوتوالی پرانی دہلی پہنچیں اور قاری اویس کو انصاف دلانے میں مدد کریں : امانت اللہ خان
دہلی ۔ 29 اگست 2019- منگل کے روز پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے باہر قاری محمد اویس کو ایک ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے اس معاملے کو دفعہ 304 کے تحت درج کیاتھا جس کے بعد مسلمانوں میں شدید ناراضگی ہے۔
اوکھلا کے رکن اسمبلی اوروقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان، سیلم پور کے رکن اسمبلی،اشراق خان اور کیرانہ سے ایم ایل اے ناہید حسن اپنے حامیوں کے ساتھ پرانی دہلی کے چاندنی چوک کوتوالی پہنچے اور دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے لگے۔ مطالبات پورا نہ ہونے وہ ارکان اسمبلی اپنے حامیوں کے ساتھ تھانہ کے باہر دھرنا پر بیٹھ گئے۔
عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے کہا کہ ہم تمام لوگ کوتوالی کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں، ہجومی تشدد میں ہلاک کیے گئے قاری اویس کے کیس میں پولیس لاپروائی برت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہجوم کے ذریعے ہلاک کیے گئے قاری اویس کا کیس دفعہ 304 کے تحت درج کیا گیا جو کہ دفعہ 302 ہونا چاہیے تھا۔
ساتھ ہی امانت اللہ خان نے لوگوں سے گزارش کی ہےکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں تھانہ کوتوالی پرانی دہلی پہنچیں اور قاری اویس کو انصاف دلانے میں مدد کریں۔
کوتوالی کے باہر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے سلسلے میں پولیس نے ابھی تک کوئی ٹھوس کارووائی نہیں کی ہے بلکہ کھانا پوری کر کے غیر ارادتاً قتل کا معاملہ 304 کے تحت درج کیا ہے جبکہ معاملہ 302 کا ہے، پولیس کے اس رویہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس مجرموں کو بچانا چاہتی ہے اور احتجاج پر بیٹھے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ معاملہ 302 کے تحت درج کیا جائے۔