گڑگاؤں ، جسے گروگرام کا نام دیا گیاہے ، کے سیکڑ – 57 کی ’ انجمن مسجد ‘ کے نائب امام ، شہید حافظ سعد سعید کا جسد خاکی لے کر ، اُن کے بڑے بھائی شاداب امینی سیتا مڑھی روانہ ہو گئے ہیں ۔ ایک ۲۲ سال کے جوان بھائی کی لاش بڑے بھائی کے کندھے پر کیسی بوجھ ہوگی اس کا اندازہ سب نہیں کر سکتے ۔ اور وہ تو قطعی اندازہ نہیں کر سکتے جن کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ، جو بھی سامنے ملے ، چاہے وہ بوڑھا ہو کہ جوان یا بچہ ، ضعیفہ ہو کہ ننھی بچی ، ادھیڑ عمر یا جوان عورت ، اُسے مار دو ۔ ایسے لوگوں کی ایک بھیڑ پیدا کر دی گئی ہے ۔
ایسی ہی ایک بھیڑ نے مسجد پر حملہ کیا تھا ، یہ بھیڑہزار سے زائد افراد پر مشتمل تھی ۔ ظاہر ہے کہ اتنی بڑی بھیڑ سے مقابلہ کرنا ، ایک ۲۲ سال کے نوجوان کے لیے ممکن نہیں رہا ہوگا ، اس نے دفاع کرنے کی کوشش یقیناً کی ہوگی ، لیکن شہادت اس کی قسمت میں لکھی تھی ، وہ شہید ہوگیا ۔
میوات ، نوح ، گروگرام اور سوہانہ وغیرہ میں یہ جو تشدد کا ننگا ناچ کیا گیا ہے ، اس کے قصوروار کہیں باہر سے نہیں آئے تھے ، یہ ہریانہ کے ہی رہنے والے تھے ، فریدآباد کے ، گروگرام کے اور اطراف کے علاقوں کے ۔ یہ وہ بھیڑ ہے جو تشدد کے لیے ہی استعمال کی جاتی رہی ہے ۔ اِن دنوں یہ بھیڑ ، جسے اگر’ قاتل بھیڑ‘ کہا جائے تو غلظ نہیں ہوگا ، کچھ زیادہ ہی ’ ڈیمانڈ ‘ میں ہے ، کیونکہ بغل کی ریاست راجستھان اور مدھیہ پردیش میں اسمبلی کے الیکشن جو سر پر ہیں ۔ جی ہاں ! یہ سارا تشدد ، اگر کہا جائے کہ الیکشن جیتنے کے لیے ہی کیا جا رہا ہے ، تو یہ درست ہوگا ۔ ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹّر نے ، اور وزیرداخلہ انیل وِج نے ’ فسادیوں ‘ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے ، انیل وج سارے تشدد کو ’ سازش ‘ سے جوڑ رہے ہیں ، ’ منصوبہ بند ‘ بتا رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کس نے اس تشدد کی ’ منصوبہ بندی ‘ کی ، کون ’ سازش ‘ رچنے والے ہیں اور کس کو ’ فسادی ‘ مانا جائے ؟ جو خبریں سامنے آئی ہیں ، اور آ رہی ہیں ، اُن سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کی کارروائی یکطرفہ ہے ۔ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو ، لیکن چونکہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں اب تک ایسے معاملات میں انتظامیہ اور پولیس کا رویہ جانبدارانہ ہی نظر آیا ہے ، اس لیے مذکورہ خبروں کو مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن آج انٹرنیٹ کا دور ہے ، سچائی پر چاہے جس قدر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے ، سچ سامنے آ جاتا ہے ، جیسے کہ جئے پور ممبئی سینٹرل سوپر ایکسپریس میں آر پی ایف کانسٹبل کی گولی باری کا سچ سامنے آ گیا ہے ، اس کی ’ مودی و یوگی بھکتی ‘ سامنے آ گئی ہے ۔ گروگرام ، فریدآباد ، خطۂ میوات کے مختلف حصوں سے تشدد کے ، اور تشدد پھوٹنے سے پہلے کے جو ویڈیو سامنے آئے ہیں ، اُن میں سارا سچ سامنے آ گیا ہے ۔ دو افراد ہیں جن پر اس تشدد اور جان و مال کی تباہی اور بربادی کا الزام عائد ہوتا ہے ، ایک مونو مانیسر اور دوسرا بِٹّو بجرنگی ۔ ان میں سے پہلا وہ ہے جس پر ناصر اور جنید کو ایک کار کے اندر بند کر کے زندہ جلانے کا اور وارث نام کے ایک شخص کے قتل کا الزام ہے ، اور اس کے خلاف باقاعدہ پولیس نے معاملات درج کر رکھے ہیں ، لیکن وہ آزاد گھوم رہا ہے ، راجستھان کی پولیس کہتی ہے کہ اُسے ہریانہ کی پولیس گرفتار کرے ، اور ہریانہ کی پولیس کہتی ہے کہ راجستھان کی پولیس گرفتار کرے ۔مقتول میوات کے ہی تھے ، اس لیے میوات کے مسلمانوں میں اُس کے خلاف شدید غصہ ہے ، جو فطری بھی ہے ۔ مونو مانیسر باقاعدہ میوات آنے کا اعلان کرکے وہاں کے لوگوں کو اشتعال دلاتا ہے ۔ اسی طرح بجرنگی پر حال ہی میں تین مقدمات درج کیے گئے ہیں ، وہ کہتا ہے کہ وہ میوات آ رہا ہے لوگ ہار پھول لے کر سواگت کریں ، اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ میواتیوں کا بہنوئی ہے ۔ یہ بھی اشتعال دلانے والا بیان تھا ۔ مزید یہ کہ بجرنگ دل اور وی ایچ پی کی جو’ برج منڈل جَل ابھیشیک یاترا ‘ نکالی گئی ، اُس میں لوگ ہتھیار لیے ہوئے تھے ! کسی دھارمک یاترا میں ہتھیاروں کی کیا ضرورت ؟ میڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ یاترا پر پتھراؤ کیا گیا ، لیکن میڈیا نے یہ بھی بتایا ہے کہ یاتری ہتھیار بند تھے ، اور شرانگیز نعرے لگا رہے تھے ،نیز انہوں نے ’ این ڈی ٹی وی ‘ کے ایک رپورٹر کو صحیح صورتِ حال پیش کرنے سے جبراً روک دیا تھا ۔ یہ ہے سارا منظر نامہ ، اس میں میواتیوں کا یہ قصور ہے کہ وہ مشتعل ہو گئے ، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انہیں منصوبہ بندی سے مشتعل کیا گیا ۔ انتظامیہ کو کڑی کارروائی کرنا ہوگی ، لیکن یہ کارروائی یکطرفہ نہیں ہونی چاہیے ۔ بجرنگ دل اور وی ایچ پی اپنی شرانگیزیوں کے لیے بدنام ہیں ، ان پر کارروائی اب لازمی ہو جاتی ہے ۔ اس تشدد میں اب تک پانچ جانیں گئی ہیں ، مالی نقصان بہت بڑا ہے ، مسجدیں جلائی گئی ہیں ، اور میوات کے بھائی چارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انتظامیہ کو قیام امن کی سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی ، لوگوں کو صبر کرنا ہوگا اور سعی بھی کہ بھائی چارہ برقرار رہے اور’ قاتل بھیڑ ‘ انجام کو پہنچے ۔