فی زمانہ اسلامی معاشرہ میں،نکاح ثانی کی حمایت کے بجائے، پست ہمتی کا رجحان کیوں؟

نقاش نائطی

+966504960485

فی زمانہ اسلامی معاشرے میں، صرف قیام صوم و صلاة اور بغیر سمجھے جانے، رٹا مار تحفیظ القران کی ہی ترویج کو، دین اصل کیوں سمجھا جانے لگا ہے؟ یقینا ان اعمال کی دعوت و ترویج ضروری ہیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ما قبل نبوت چالیس سال اور بعد نبوت 23 سال، کیا صرف صوم و صلوة، ذکر و اذکار اور رٹا مار حافظ قرآن کی کھیپ تیار کرنے ہی پر، اپنی 63 سالہ زندگی صرف کی تھی؟ کفار کے اس پراگندہ حال معاشرے میں، جہاں قومی عصبیت اور انا کے لئے پشتوں تک جنگ و جدال کرتے، بدلے لیتے، خون بہاتی انانیت کی رزم گاہیں سجاتے اور عربی ادب کے قصیدے پڑھتی محافل سجاتے پس منظر میں، ماقبل نبوت اپنی چالیس سالہ عملی زندگی سے، آمین و صادق اپنے آپ کو ثابت کرنے اور بعد نبوت بھی، بوڑھی یہودی نساء کا بوجھ ڈھوتے، رضاکارنہ حمالی کرتے، انسانیت کی خدمات سے کفار کے دل جیتنے، جیسے آپﷺ کی ان تھک کوششیں، آپ کے خلفاء راشدین کے انسانیت کی خدمات کے ذاتی اعمال،اورآپ کے اصحاب صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی سعی پیہم کی، فی زمانہ اسلامی معاشرہ کہنے والے، قریوں، گاؤں، شہروں میں،کیا کوئی اہمیت باقی نہیں بچی ہے؟

ایک یہودی بڑھیا اپنی استطاعت سے زیادہ بوجھ اٹھائے، نپے تلے قدم رکھتے، شہر کی گلیوں سے خراماں خراماں، اپنے گھر کی طرف رواں دواں ہے، ایک نوجوان آگے بڑھتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ اس سے وہ بوجھ اپنے اوپر لیتا ہے۔ اسے ایک عام مزدور مان کر، اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے، اس کے حوالے اپنا بوجھ کر، اس کے ساتھ وہ قدم بقدم آگے بڑھتی ہے۔ اس کے اخلاق سے وہ متاثر بھی ہے اور توضیع وقت کا تقاضہ بھی، وہ اس نوجوان سے مخاطب ہوکر اظہار نصیحت کچھ کہنے لگتی ہے کہ "سنا ہے مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا برملا اظہار کردیا ہے۔ ہمارے صدیوں سے پوجتے آئے لات و منات کی پوجا سے ہم آل ابراھیم کو روکتا ہے اور ایک ان دیکھے آسمانی خدا کی پرستش کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ سنا ہے اس کی زبان کی چاشنی میں اتنا اثر ہے کہ کوئی بھی اس سے ہم کلام ہوتا ہے وہ اسے اپنے اثر میں لیتے ہوئے، اسے لادین بنا دیتا ہے”۔

آپﷺ خاموشی کے ساتھ یہودی بڑھیا کی باتیں سنتے اسکے ہمراہ چلے جارہے ہیں،منزل مقصود پہنچ کر بوجھ اس کی جھونپڑی میں اتار کر پلٹ جانے لگتے ہیں، یہودا” بڑھیا اس نوجوان کو اسکا سامان اٹھا،اسکے گھر پہنچانے کی کچھ اجرت دینا چاہتی ہے۔آپ ﷺ کہتے ہیں آماں ہم نے اجرت کے لئے آپ کی مدد نہ کی تھی سوچا تھا اس ضعیف العمری میں بھی آپ بوجھ اٹھائے چلی جارہی ہیں آپ کی مدد مقصود تھی نہ کہ اجرت، کہتے ہوئے پلٹ جانے لگتے ہیں، بڑھیا اسے آواز دیتی ہے اس کا شکریہ ادا کرتی ہے ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہوئے کہتی ہے "آئے نوجوان تیرا بڑا کرم، تونے بغیر کسی لالچ کے میری مدد کی، لات و منات تیری حفاظت کرے، خصوصا اس نوجوان سے تیری حفاظت کرے جس نے مکہ میں ایک نئے دین کآ برملا اظہار کرلیا ہے، لیکن جاتے جاتے تیرا نام تو بتا آئے نوجوان” آپ ﷺ بڑھیا کے قریب آتے ہیں اور نہایت بردباری سے، نہایت ادب سے کہتے ہیں،”آماں جی، میں وہی نوجوان محمد بن عبداللہ ہوں، خالق کائینات کے مالک حقیقی ہونے کی بات کہتا ہوں اور اپنے رسول ہونے کا اظہار کرتا ہوں” وہ بڑھیا کچھ لمحوں کے لئے ششدر بکا بکا کھڑی رہ جاتی ہے اور اپنے ہواس کو قابو میں کرتے ہوئے کہتی ہے، "انسانیت کی خدمت کرنے والے، بغیر کسی لالچ دوسروں کا مال اپنے کندھے پر ڈھوتے ہوئے،بن مانگے ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنے والے، اتنے بااخلاق با کردار نوجوان، ہمارے خدا لات و منات کو یکسر غلط کہنے کی جرآت کیسے کرسکتا ہے؟ تو یقینا سچ کہتا ہے، تیری رسالت پر میں، نہ صرف یقین کرتی ہوں بلکہ تم پر رب دو جہاں کے نبی ہونے کا یقین کرتے ہوئے تمہارے دین اسلام پر ایمان بھی لاتی ہوں”

کیا آپﷺ نے اس یہودی بڑھیا کو دعوت اسلام دیا تھا؟ نہیں بلکہ اپنے خدمت انسانیت، خوش اخلاقی و صالح عمل سے، اس یہودی بڑھیا کا دل جیت لیا تھا، اس لئے وہ خود سے مسلمان ہوگئی تھی۔ آج ہم، کثرت تعداد والے بن عمل مسلمانوں کی، اس دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے۔ کمی ہےتو ہم مسلمین میں، خاتم الانبیاء کے عملی زندگی کے فقدان کی۔

*1400 سو سال قبل کے معاشرے میں نساء کو ایک بوجھ سمجھتے ہوئے، پیدا ہوتے ہی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والے معاشرہ میں، نساء کو عزت و احترام توقیریت دینے کی بات تھی۔ جس معاشرے میں ایک عورت کو بوجھ اور صرف اولاد پیدا کرنے کی مشین سمجھا جاتا تھا، اسی معاشرے میں چار چار نساء کو ایک ساتھ اپنے نکاح میں رکھتے ہوئے، ان کے درمیان انصاف عملا”کر دکھانےکا چیلنج تھا، معاشرے میں پنپ رہی بے راہ روی زنا سے بچانے کی فکریں تھیں اسی لئے آللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کے لئے نکاح کو اتنا آسان کیا تھا کہ عموما آپ ﷺ کے بشمول،آپﷺ کےصحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین، بلا جھجک چار چار شادیاں کرتے پائے جاتے تھے۔ایک بیوی پر اکتفا کرنے والے صحابہ کرام کی تعداد ، حج الوداع کے موقع پر موجود کل ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام کے مقابلے، انگلیوں پر گننے لائق دو ہندسوں سے اوپر نہیں پہنچتی تھی۔پھر کیوں اسلامی معاشرہ کہنے والی مسلم بستیوں میں بھی، اگر کوئی مسلمان کسی بھی مجبوری میں، دوسری شادی کرنا بھی چاہتا ہے تو، لوگ اسے اپنی کنواری بیٹی بہن کو نکاح کر دینے سے اجتناب کرتے کیوں پائے جاتے ہیں؟ اگر پہلی بیوی سے گر اختلاف رہتے وہ عورت کو عورت ہی سے سبق سکھانے کی نیت ہی سے، دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو، اسے پہلی بیوی کو طلاق دینے کی شرط پر اپنی بیٹی یا بہن سے نکاح کردینے، اپنی رضا کا اظہار کیوں کیا جاتا ہے؟ دار القضاء سے منسلک علماء کرام بھی مرد و زن میں اختلاف ہونے کی صورت، دونوں میں ایک حد تک، نہ صرف مفاہمت ہی کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں بلکہ مفاہمت نہ ہوسکنے پر،گر مرد آہن اپنی بیوی کو ایک طلاق تنبیہا” دینابھی چاہتا ہے تو، اسے تین طلاق دینے کی صلاح دیتے کیوں پائے جاتے ہیں؟ فی زمانہ عموما نئے شادی شدہ جوڑوں میں ناچاقی بڑھنے پر، نساء کی طرف سے خلع کی درخواست آنے پر بھی، مرد آہن ہی کو، نہ چاہتے ہوئے اسے تین طلاق دینے پر کیوں اکسایا جاتا ہے؟ایسی مطلقہ یا خلع شدہ یا بیوہ نساء، گر خوبصورت ہے یا مالدار گھرانے سے ہے تو اس کا گھر بسنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ لیکن قبول صورت و میانہ و غریب خاندان کی مطلقہ یا بیوہ سے شادی کرنے کا رجحان کس مسلم معاشرے میں پایا جاتا ہے؟کیوں مسلم معاشرے میں نکاح ثانی یا ثالث کو فروغ نہیں دیا جاتا ہے؟کیا اللہ کے رسولﷺ کا اور لاکھوں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا عملا کردکھایا، یہ کثرت زواج والاعمل، غیر قانونی و غیر اخلاقی، کئی کئی نساء سے جنسی تعلق رکھنے والے، آج کے تمدنی ترقی یافتہ معاشرے میں، اس سنت کثرت زواج والے عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے کیا؟ یاسنت و نفل نماز و اذکار ہی کو اسلامی معاشرے میں جاری و ساری رکھنے کی دعوت،اللہ کے رسولﷺ اور آپ کے اصحاب صحابہ رضوان الاجمعین نے، بیسویں صدی کے مسلم معاشرے کو دی ہے کیا؟*
*ہم اہل نائط کہنے کو تو اپنے آپ کو اہل عرب کہتے ہیں، لیکن عربوں والے کثرت زواج والی سنت، ہم مسلم معاشرہ کہتے نہ تھکنے والے معاشرہ میں، فقدان کیوں ہے؟ ہم نے سلف صالحین کے کثرت زواج والے تفکر پر اپنی اولادوں کی تربیت کیوں نہیں کی ہے؟ کہ ہماری بچیاں بھی، بن بیاہےاپنے کالے بالوں میں سنہرے بال دیکھ دیکھ کڑھتی رہنا پسند کرتی ہیں، لیکن کسی کے نکاح ثانی میں جانے سے پرہیز کرتی پائی جاتی ہیں، یہاں صرف ایک سنت کے رہ جانے کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر غیر اسلامی طریقہ سے، کسی بھی سب سے، کسی بھی باکارہ کی بکارت چھین لی جاتی ہے یا جوان بیوہ کے اردگرد منڈلاتے بھنوروں کی وہ شکار بن جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ صرف مجبور والدین؟ یا اسلامی معاشرے کے ٹھیکیدار علماء کرام؟ میاں بیوی میں اختلاف نہ سلجھنے پر تین طلاق دے ہمیشہ کے لئے مرد و زن کو الگ کرنے کی صلاح دینے والے، اہل علم کا تدبر اس وقت کہاں غائب ہوجاتا ہے جب ان مطلقہ یا بیوہ سے جنسی بے راہ روی معاشرے میں عام ہوتی نظر آتی ہے۔اس میں انہیں ہی قصور وار بھی نہیں ٹہرایا جا سکتا، طلاق کے بعد مرد آہن کو کنواری دلہن بھی مل جاتی ہے اور اگر نہ بھی ملے تو اس کے لئے دنیا جہاں کے در کھلے پڑے ہیں معاشرے میں اپنے تسکین نفس کے لئے، لیکن جوان مطلقہ یا بیوہ کہاں جائے اپنے تسکین دل و تفکر کے لئے؟ اگر معاشرے میں کثرت زواج کو غلط نظر سے نہ دیکھا جاتا یا معتوب نہ سمجھا جاتا تو عموما نساء کی خامی باوجود ان خامیوں پر صرف نظر کر، اسے اپنے نکاح میں رکھتے ہوئے، مرد آہن دوسری منکوحہ میں تسکین تلاش کرنے میں تو کامیاب ہوجاتا؟

اس ضمن میں ہمیں یاد پڑتا ہے تین دیے قبل کا ایک واقعہ،ہمارے ایک عزیز کو ان کی اہلیہ کی زبان درازی گالی گلوج سے تنگ آکر اسکے اعزہ اسے طلاق دینے پر مجبور کررہے تھے۔ انہیں بھی اپنی منکوحہ کی لچکتی پھسلتی زبان سے شکوہ شکایات تھیں۔ ان ایام، عمر کے فرق باوجود،ہماری قربت کی وجہ، ہم سے مشورہ مانگا گیا، تو ہم نے انہیں نساء کو نساء ہی سے اصلاح کرنے کے گر کے عین مصداق، عقد ثانی پر آمادہ کیا۔ جب وہ عقد ثانی کے لئے وطن جارہے تھے تو ان کی منکوحہ کے خاندانی پس منظر میں، گالی گلوچ کی عادت کے پیش نظر، انہیں اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ وقت نکاح ثانی منکوحہ اولی کتنی بھی گالی گلوج یا بدتمیزی کرے، یا طلاق ہی پر بضد رہے تب بھی کسی بھی صورت ان ایام منکوحہ اولی کو طلاق نہیں دیا جایگا، اللہ کا فضل نکاح ثانی کے کچھ مہینوں بعد منکوحہ اولی میں اتنا سدھار آیا کہ وہ ہمارے عزیز،جوان سال دوسری بیوی پر،پہلی معمر والی ہی کے گن گاتے پائے جاتے تھے۔آج عقد ثانی پر تیس ایک سال گزرنے پر بھی، وہ دونوں منکوحہ کے درمیان ایک حد تک انصاف کرتے، ساتھ محبت سے رہتے آر ہے ہیں
ہم کہنے کو تواپنے آپ کو نہ صرف عاشقان رسول ﷺ میں سے کہتے ہیں بلکہ بعض مخصوص سنن و نوافل پر، اتنی سختی سے عمل کرتے پائے جاتے ہیں کہ زمانہ ہم ہی کو وارثان رسول ﷺ میں سے سمجھتا ہے۔اور ہمارے قریب آنے لگتا ہے اور ہماری قربت ہمارے معاملات کی کمزوریوں کو اس پر کچھ زیادہ ہی واشگاف کردیتی ہے تو نہ صرف ہم ہہ سے، بلکہ دین اسلام سے متنفر ہوا پایا جاتا ہے۔ معاشرے میں عموما یہ کہتے سنا جاتا ہے "صاحب ریش کے جتنے لمبے بال، اتنا ہی معاملات میں کوتاہ تر” ہمارے دیندار گھرانوں کا ماحول باہر سے جتنا پرکشش اور لائق تقلید لگتا ہے اندرونی معاملات و برتاؤ جن پر ظاہر ہوتے ہیں ان سے انکی توبا سن لی جائے تو معلوم بھی ہو کہ دبیز ہریالی کے نیچے کتنا دقیق دلدل ڈھکا چھپا ہوا ہے۔
*کون معاشرہ تمام خوبیوں سے مبرا شرک و بدعات و خرافات میں ہی مستغرغ پایا جاتاہے؟ ہر معاشرے میں جہاں کچھ مغلظات پائے جاتے ہیں وہیں کچھ حسنات بھی ہم کو ملتے ہیں۔ہم آل عرب ہمارے جد امجد، فی زمانہ عربوں میں بھی بہتات مال و زر نے،جہاں بہت اقسام کی تعیش پسندی، اصراف کے وطیرہ کو اپنانے پر انہیں مجبور کیا ہوا ہے وہیں پر اس گئے گزرے دور میں بھی، ایک وحدہ لاشریک پر انحصار اور توحید پر مکمل یقین و عمل میں یکتا وہ پائے جاتے ہیں، وہیں پر کثرت زواج و کثرت اولاد کے بھی وہ دھنی ہوتے ہیں۔اس تیز رفتار دوڑتی دنیا کے حادثات کے شکار عین جوانی میں, ان میں سے کوئی، مالک دوجہاں کی دعوت پر لبیک کہتے وہ اس فانی دنیا سے اس ابدی دنیا کی طرف کوچ کر جارہا ہو تا ہے تو اسکے پیچھے ایک سے زائد بیوائیں اور درجن بھر یتیم بچوں کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہوئے ہوتے ہیں۔ایسے میں بعد وفات کچھ ایام، مرحوم کے گھر، اسکے اپنے سگے بھائیوں کی ایک کثیر تعداد، اسوء رسول محمد مصطفیﷺ کی عملی زندگی، عمل پیرائی کے خاطر، باہم اتفاق سے متوفی کے یتیم بچوں کو، اپنی اپنی زیر کفالت لیتے ہوئے، معصوم یتیم اولاد کی پرورش و تربیت کی تمام تر ذمہ داریوں سے، اس کی بیواؤں کو ماورا کرتے ہوئے، کسی اور سے عقد ثانی کرتے، اپنی نئی زندگی کی شروعات کی راہ ان کے لئے آسان کئے دیتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کے، یتیموں کی پرورش کے اس سمت سنت عمل کو معاشرے میں زندہ رکھنے ہی کی خاطر، کثرت زواج والا اسلامی معاشرہ،بیواؤں کی کثرت سے پاک رہتا ہے۔اگر ہمارے خود ساختہ اسلامی مشہور معاشرے میں بھی، بیواؤں یا مطلقہ نساء کو، اسکی اپنی اولاد کی پرورش کے بوجھ سے ماورا رکھنے کا رواج عام پاجائے، اور اولاد کی پرورش کی ذمہ داری مرد آہن ہی پر ڈال دی جائے تو ایک طرف طلاق کی شرح میں بھی کمی آسکتی ہے تو دوسری طرف ،کثرت زواج کی چھوٹ کے باعث، ہمارا اپنا اسلامی معاشرہ، مطلقہ یا بیوہ پاک معاشرہ ہوسکتا ہے۔*
*دراصل ان ایام جہاں جدت پسند یہود و نصاری والے معاشرہ کی خرابیاں خامیاں، ٹی وی سیریل اور افلام، ان کی زندگی کی رونقوں کی صورت ، اچھے اچھوں کی زندگیوں میں ھیجان بپا کرنے کے لئے کافی ہوتی ہیں۔اور اس طرح انیک برائیاں اسلامی معاشرے میں خود بخود جس طرح عود کر آجاتی ہیں۔وہیں پر معاشرے میں پنپتی، بعض برائیوں کمیوں خامیوں کے ازالے کی فکر،معاشرے کے صلحاء علماء وارباب حل و عقل کو تدبر تفکر سے کرنی پڑتی ہے۔ کثرت زواج والے اسلامی اقدار و روایات کو معاشرے میں فروغ دینے محنت کرنی پڑتی ہے۔ ایک ہی منکوحہ سے زندگی بھر صبر سے کام لینے والے اسلامی معاشرے میں بھی، خوبصورت سے خوبصورت، بہترین سے بہترین جوڑے کی تلاش ہوا کرتی ہے۔ایسے پس منظر میں متمول قبول صورت یا ایک حد تک کچھ نقائص والی غریب و متمول گھرانے کی لڑکیوں کے لئے رشتے کہاں سے آئینگے؟ لیکن جس معاشرے میں کثرت زواج معیوب نہ ہو تو،رخ ثانی تلاش کرتے وقت بہترین سے بہترین کی تلاش، بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے اس لئے کہ دوسرے اور تیسرے نکاح کی گنجائش ابھی باقی جو رہتی ہے۔اور کثرت زواج میں عدل مابین زوجات سے جس طرح ڈرایا جاتا ہے اس سے بھی ذرا سا اسلامی رجحان رکھنے والا مرد آہن بھی، کثرت زواج سے پناہ مانگتا نظر آتا ہے۔یہ بالکل ایسا ہی عمل ہے، جیسے نفل وسنن پر عمل کرنے کے چکر میں، فرائض بھی جہاں رہ جاتے ہیں*

دعوت اسلامی للکفار کے لئے، جس صالح معاشرے کی ضرورت ہے وہاں ذکر و اذکار کی محافل اور نفل و سنن صلاة شب گزاری کے بجائے، اخلاق حمیدہ، انسانیت نوازی والے اعمال، امانت داری،عدل وانصاف والا پس منظر ضروری ہوتا ہے۔ صالح معاشرے میں بیوہ و مطلقہ کی کثرت سے برپا ہونے والی بے راہ روی بھی مفقود ہونی ضروری ہوتی ہے۔یہ صرف کثرت زواج والے معاشرہ میں ہی ممکن ہے۔واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading