غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں تحقیقات کا ڈھونگ، افسران کو بچانے کی سازش
افسران کو کلین چٹ دینے پر تھانے کانگریس کا اعتراض، دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ
تھانے (آفتاب شیخ)
تھانے میونسپل کارپوریشن کے حدود میں جاری غیر قانونی تعمیرات کو متعلقہ افسران کی مبینہ حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے شہر کی شہری سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس معاملے پر کئی سماجی تنظیموں اور کونسلروں نے شدید اعتراض اٹھایا ہے۔
ممبرا کے لکی کمپاؤنڈ اور واگلے علاقے کی سائرہج بلڈنگ کے المناک حادثے، جس میں کئی افراد کی جانیں چلی گئیں، کے بعد غیر قانونی تعمیرات پر مستقل پابندی عائد کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے سابق کارپوریٹر و تھانے کانگریس کے صدر ایڈوکیٹ وکرانت چوان اور سابق کارپوریٹر نارائن پوار نے مہاسبھا میں ایک اہم نوٹس پیش کی تھی۔ اس پر دو دن کی بحث کے بعد 6 ستمبر 2021 کو غیر قانونی تعمیرات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کمشنر وپن شرما کے 16 اگست 2021 کو دیے گئے احکامات کے تحت، تھانے میونسپل کارپوریشن کے تمام اسسٹنٹ کمشنروں کی تحقیقات کے لیے افسران کو نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم، تحقیقات کے نتیجے میں 12 میں سے 11 اسسٹنٹ کمشنروں کو الزامات سے بری کر دیا گیا، جبکہ ایک کی تحقیقات ابھی تک زیر التوا ہے۔ تھانے کانگریس کے صدر ایڈوکیٹ وکرانت چوان نے ترجمان راہل پنگلے، ہندوراو گلوے کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر یہ افسران بے قصور ہیں، تو پھر غیر قانونی تعمیرات کے ذمہ دار کون ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افسران کو کسی دباؤ کے تحت کلین چٹ دی گئی۔ ایڈوکیٹ وکرانت چوان نے کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جعلی تحقیقات کو مسترد کریں اور نئے سرے سے تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے میں کوئی ٹھوس کارروائی نہ کی گئی تو وہ ہائی کورٹ میں عوامی مفاد میں عرضی دائر کریں گے۔
