اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ کی جنگ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے موقف کا امریکا میں آئندہ انتخابات پر بڑا اثر ہو گا۔ اسی واسطے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے صدارتی انتخابات سے قبل جنگ کے خاتمے کی کوشش کی جو ابھی تک بے فائدہ رہی ہے۔اس جنگ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کے بیچ بڑی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ بالخصوص عرب اور مسلمان امریکی جن کا ووٹنگ میں مؤثر کردار ہے انھوں نے جو بائیڈن کی نامزدگی کو مسترد کر دیا۔ یہاں تک کہ ان میں بعض نے تو غزہ جنگ کی وجہ سے کئی ماہ قبل صدر کی انتخابی مہم کے ذمے داروں سے ملاقات سے انکار کر دیا۔
البتہ بائیڈن کے دست بردار ہونے کے بعد ان افراد کے حوالے سے معاملہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ بالخصوص نائب صدر کملا ہیرس نے جو ممکنہ طور پر نئی صدارتی امیدوار ہیں، انھوں نے غزہ کے حوالے سے مختلف نوعیت کا موقف ظاہر کیا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق کملا نے جمعرات کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کملا نے کہا کہ غزہ میں گذشتہ نو ماہ کے دوران میں جو کچھ ہوا وہ تباہ کن تھا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ہلاک ہونے والے بچوں اور امان کی تلاش میں دربدر پھرنے والے دکھی اور بھوکے افراد کی تصاویر سے نظریں نہیں پھیری جا سکتی ہیں۔ کملا نے واضح کیا کہ "میں ہر گز خاموش نہیں رہوں گی”۔
یاد رہے کہ کملا ہیرس بدھ کے روز کانگریس میں نیتن یاہو کے خطاب میں شریک نہیں ہوئی تھیں۔نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد کملا ہیرس نے باور کرایا کہ وہ حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہیں۔امریکی خاتون نائب صدر نے رواں سال مارچ میں غزہ کی صورت حال کو "انسانی المیہ” قرار دیتے ہوئے وہاں فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی ماہ ایک انٹرویو میں کملا نے غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ کی مخالفت کی تصدیق کی تھی۔ تقریبا دس لاکھ سے زیادہ افراد نے وہاں راہ فرار اختیار کی۔ کملا کا کہنا تھا کہ "ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں یہ لوگ چلے جائیں”۔
اسی بنا پر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی سے متعلق ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکڑوں سابق قائدین نے جن میں عرب اور مسلمان بھی شامل ہیں رواں ہفتے کملا ہیرس کی کرسی صدارت تک پہنچنے کی کوششوں کی تائید کی تھی … باوجود یہ کہ نائب صدر سفارتی معاملات میں محدود تجربہ رکھتی ہیں۔
جہاں تک غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے لیے امریکی حمایت کا تعلق ہے تو کملا ہیرس بڑی حد تک صدر جو بائیڈن کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔ انھوں نے باور کرایا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔تاہم ساتھ ہی کملا نے غزہ میں فلسطینیوں کے مسائل کے حوالے سے زیادہ شدید لہجہ استعمال کیا جو کچھ عرصہ قبل ان کے کئی مواقف میں ظاہر بھی ہوا۔یاد رہے کہ صدر جو بائیڈن نے جمعرات کے روز واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات میں مطالبہ کیا تھا کہ جتنا جلد ممکن ہو غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے معاہدے تک پہنچا جائے۔
واضح رہے کہ مشی گن ریاست امریکا میں عرب نژاد شہریوں کی سب سے بڑی تعداد رکھتی ہے۔ یہاں "غیر لازم” احتجاجی ووٹنگ میں ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ آئے جو کل ووٹوں کا تقریبا 13.4 فی صد ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت نے بائیڈن کی انتخابی مہم کو چونکا دیا ہے۔ بالخصوص جب کہ مشی گن ایک ڈانواڈول ریاست ہے جہاں 2020 میں بائیڈن جیتے تھے جب کہ 2016 میں یہاں اکثر ووٹروں نے ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔