غزہ میں پیر کے روز شدید بارش بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو بہا لے گئی۔ غزہ کی پٹی کے یہ رہائشی 13 ماہ سے زیادہ عرصے پر پھیلی غزہ جنگ کے باعث بے گھر ہونے کے بعد کئی ماہ سے خیموں میں پڑے تھے کہ پیر کے روز کی طوفانی بارش نے انہیں ایک بار پھر بے خانماں کر دیا۔
اتوار اور پیر کی درمیانی رات شروع ہونے والی اس طوفانی بارش سے سخت سردی میں یہ بے گھر پناہ گزیں ٹھٹھر کر رہ گئے۔ کئی جگہوں پر پلاسٹک کی شیٹس سے بنائے گئے خیموں کو طوفانی بارش نے مکمل اکھاڑ دیا ،کئی مقامات پر کپڑے سے بنائے گئے خیمے بارش کی طوفانی قوت کا سامنا نہ کر سکے اور کئی جگہوں پر خیموں کے اندر تک پانی نے گھس کر پناہ گزینوں کا بچا کھچا سامان بھی بہا دیا۔
بتایا گیا ہے کہ ان طوفانی بارش کی زد میں آنے والے پناہ گزینوں میں سے کئی کے خیمے غزہ جنگ کے شروع سے لگے ہونے کے باعث اب بوسیدہ ہوچکے تھے جو اس بارش کے سامنے اچانک ڈھیر ہوگئے۔ تاہم ان خیموں کے رہنے والوں کے لیے نئے خیموں کا خریدنا تقریبا ناممکن ہے۔ کیونکہ خیموں کی قیمت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔
اس طوفانی بارش سے متاثر ہونے والے چھ بچوں کی فلسطینی بے گھر ماں نے کہا ‘ خیمے تباہ ہونے کے بعد ایک سکول کے کلاس روم میں منتقل ہوئے ہیں مگر اس کے کلاس روم کی کھڑکیاں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔اپنے بچوں کے ساتھ بے گھری کا شکار یہ فلسطینی خاتون خان یونس کے علاقے میں موجود تھیں۔
وہ لکڑیوں کی آگ سے روٹی بناتی ۔ اس مقصد کے لیے زمین پر ہی چولہا بنا رکھا تھا۔ لیکن بارش سے ان کے پاس موجود آٹا خراب ہو گیا ہے جبکہ مٹی کا چولہا بھی تباہ ہو گیا ہے۔
ان کا ا کہنا تھا ‘ اس سے پہلے ہمیں بمباری سے مرنے کا خوف تھا اب بارش بھی زحمت بن گئی ہے۔ ‘ یہی حال ارد گرد لگے خیموں اور ان میں رہنے والے بے گھر مکینوں کا ہوا ہے۔ نہ بچا کھچا سامان رہا ،نہ کھانے کی اشیا میں کچھ باقی رہا اور نہ پیوند لگے خیموں کی چھت بچ سکی۔
شدید طوفانی بارش کے بعد سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔ بچوں اور بوڑھوں کے لیے خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔