غزہ کا دوسرا سب سے بڑا ہسپتال مکمل طور پر ’آؤٹ آف سروس‘ :وزارتِ صحت’

تباہ شدہ فلسطینی انکلیو میں اسرائیل کی حماس کے مزاحمت کاروں سے جنگ جاری تھی تو مقامی اور اقوامِ متحدہ کے صحت کے حکام نے کہا کہ لڑائی، ایندھن کی قلت اور اسرائیلی چھاپوں کی وجہ سے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کا دوسرا بڑا ہسپتال مکمل طور پر بند ہو گیا۔

غزہ میں صحت کی نگہداشت کے تباہ شدہ شعبے کو تازہ ترین دھچکا اس وقت لگا جب اسرائیل جنوبی شہر رفح پر حملے کی تیاری کر رہا ہے جو اب دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ ہے- یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری بشمول اسرائیل کے حمایتی امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ بہت زیادہ انسانی مصیبت و ابتلا کا سبب بنے گا۔

اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے نے غزہ کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا ہے اور اس کے تقریباً تمام باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔ فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ 28,985 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

غزہ کے ہسپتال اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان چار ماہ سے جاری جنگ کا مرکزی نقطہ رہے ہیں۔غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی شہر خان یونس میں الناصر ہسپتال اتوار کی صبح خدمات سے قاصر ہو گیا۔صحت کے حکام نے بتایا کہ ہسپتال نے جنگ کے زخموں اور غزہ میں صحت کے بگڑتے ہوئے بحران سے دوچار مریضوں کو بدستور پناہ دی تھی لیکن ان سب کے علاج کے لیے کوئی بجلی اور کافی عملہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، "یہ مکمل طور پر خدمت سے قاصر ہو گیا ہے۔ صرف چار میڈیکل ٹیمیں اور 25 کا عملہ فی الحال سہولت کے اندر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔”القدرہ نے کہا کہ ہسپتال کو پانی کی سپلائی رک گئی کیونکہ جنریٹر تین دن سے بند تھے، سیوریج کا پانی ایمرجنسی کمروں میں بھر گیا اور بقیہ عملے کے پاس انتہائی نگہداشت والے مریضوں کے علاج کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ آکسیجن کی فراہمی کی کمی کم از کم سات مریضوں کی موت کا سبب بنی۔ یہ بھی بجلی نہ ہونے کا نتیجہ تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading