غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں چھ بچوں سمیت کم سے کم 24 ہلاکتیں

فلسطین کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کیے گئے فضائی حملوں میں اب تک 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کارروائیوں کے ذریعے غربِ اردن میں فلسطینی عسکریت پسند گروہ اسلامک جہاد (پی آئی جے) کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ان حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں چھ بچے اور اسلامک جہاد کے سربراہ تيسير الجعبری سمیت دیگر جنگجو بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کے مطابق یہ فضائی حملے پی آئی جے کے ’فوری خطرے‘ کے پیش نظر کیے گئے۔ایک اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے سے اب تک اسرائیل پر فلسطین سے 300 راکٹ داغے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ سے داغے گئے اکثر راکٹ حملوں کو روکا گیا ہے۔ ان حالیہ واقعات نے اسرائیل اور غزہ کے درمیان کشیدگی بڑھا دی ہے۔

آخری بار ایسا مئی 2021 میں ہوا تھا جب 11 روزہ جنگ کے دوران 200 فلسطینی اور ایک درجن اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔اسرائیلی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ اس حالیہ آپریشن ’بریکنگ ڈان‘ کا دورانیہ ایک ہفتے تک ہو سکتا ہے۔ان فضائی حملوں کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں میں اب تک مبینہ طور پر اسلامک جہاد کے لگ بھگ 19 اراکین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

سنیچر کو اسرائیلی علاقوں میں میزائل حملوں کی وارننگ دینے والے سائرن بجتے سنائی دیے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ غزہ میں کئی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ پی آئی جے کے مزید اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فلسطینی طبی حکام نے غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری ’اسرائیلی جارحیت‘ پر عائد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک 203 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading