حماس کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کو تسلیم کر لیا ہے۔ ایک بیان میں حماس کا کہنا ہے کہ اس نے قطری اور مصری ثالثوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔حماس کی قیادت کا کہنا ہے کہ ’اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے‘حماس نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن التھانی اور مصری انٹیلی جنس کے وزیر عباس کامل سے ٹیلیفون پر بات کی اور انھیں جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں حماس کی تجاویز اور شرائط کی منظوری کے متعلق آگاہ کیا ہے۔
حماس کے رہنما طاہر النونو نے خبررساں ادارے رؤٹرز کو بتایا کہ معاہدے کی شرائط میں جنگ بندی، غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے علاوہ بے گھر افراد کی واپسی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے۔تاہم غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حماس کی قید میں موجود اسرائیلیوں کی رہائی بھی معاہدے کا حصہ ہو گی۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈئینیل ہیگری نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ اسرائیل، حماس کی جانب سے جنگ بندی کے لیے قبول کیے گئے معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم ہر جواب اور ردعِمل کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں اور مذاکرت اور یرغمالیوں کی واپسی کے حوالے سے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اب بھی غزہ کی پٹی میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسے جاری رکھیں گے۔اس سے قبل خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ حماس نے جنگ بندی کے لیے ’نرم شرائط‘ پر مبنی مصری تجاویز کو منظور کیا ہے جو اسرائیل کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔
خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ اس تجویز میں ایسے ’دور رس نتائج‘ شامل ہیں جن سے اسرائیل متفق نہیں ہے۔ادھر وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کے مطابق امریکی حکومت حماس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کا ’جائزہ‘ لے رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز بریفنگ کے آغاز میں کربی نے جاری جنگ بندی مذاکرات کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’میں ایسا کچھ بھی نہیں کہنا چاہتا جو اس عمل کو خطرے میں ڈال دے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ جنگ بندی پر ’کام کرنا بند نہیں کرے گی۔‘
ایک نامہ نگار کے پوچھے جانے پر کربی نے اس بات پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ حماس معاہدے کے کن پہلوؤں پر متفق ہے۔ادھر غزہ میں حماس کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کو منظور کیے جانے کے بعد الاقصیٰ ہسپتال کے باہر فلسطینی شہریوں نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ لوگ حماس کی جانب سے شرائط منظور کیے جانے کے بعد خوشی سے نعرے بازی کر رہے ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان بھی حماس کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط منظور کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
تاہم ابھی اس جنگ بندی معاہدے کی مکمل تفصیلات کا اعلان ہونا باقی ہے، لیکن یہ پیشرفت اس ،تنازعے میں گھرے لوگوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔بی بی سی کے غزہ کے نامہ نگار رشدی ابوالوف کے مطابق ایک سینیئر فلسطینی اہلکار (جنگ بندی کے معاہدے سے واقفیت رکھتے ہیں) کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کی شرائط پوری ہوتی ہیں تو حماس نے ’اسرائیل مخالف سرگرمیاں‘ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس جملے سے اشارہ ملتا ہے کہ حماس اپنی مسلح جدوجہد کے خاتمے پر غور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے ابھی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور یہ دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے کے اختتام پر ہی حاصل ہو سکیں گی۔ہر مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا اور دوسرا مرحلہ غزہ کی ناکہ بندی کے مکمل خاتمے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔پہلے مرحلے میں یرغمال بنائی گئی اسرائیلی خواتین فوجیوں کی واپسی شامل ہے جنھیں 50 فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا، ان میں سے کچھ عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
اس عرصے کے دوران اسرائیلی فوجی غزہ کے اندر رہیں گے لیکن جنگ بندی کے نافذ ہونے کے 11 دنوں کے اندر اندر اسرائیل غزہ کی پٹی کے مرکز میں اپنی فوجی تنصیبات کو ختم کرنا شروع کر دے گا اور صلاح الدین روڈ اور کوسٹل روڈ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ 11 روز بعد فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی کے شمال میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔
ادھر یروشلم میں بی بی سی کے سیکورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے اس پیش رفت پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے ثالثی زیادہ تر مصری قیادت میں ہوئی ہے جبکہ ان مذاکرات میں قطری حکام بھی شامل رہے ہیں۔
مصر کی سرحد غزہ سے ملتی ہے اور وہ خطے میں امن بحال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ مصر نہیں چاہتا کہ تشدد اس کی سرحدوں تک پھیلے، اس لیے مصری حکومت اور مصری انٹیلی جنس کے حکام جنگ بندی کے معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔حماس عسکری طور پر کافی حد تک ہوشیار رہی ہے کیونکہ اس کے پاس 128 اسرائیلی یرغمالی ہیں، جن میں سے کم از کم 34 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں تاہم حماس اب بھی اسرائیل سے اچھی سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔میں ہر رات یہاں یروشلم میں احتجاج کرنے والوں کو دیکھتا ہوں جو احتجاج کے دوران بینرز لہراتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ’انھیں گھر لے آؤ‘ یا اسی طرح کے مطالبات درج ہوتے ہیں۔