غازی آباد : کرسی پر بیٹھے جم ٹرینر عادل کی دل کا دورہ پڑنے سے موت : ویڈیو سی سی ٹی وی میں قید

غازی آباد : یہاں پر ایک جم ٹرینر کرسی پر بیٹھے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔عادل کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے کچھ دنوں سے بخار کی شکایت کر رہے تھے لیکن جم جانا بند نہیں کیا۔

سوشل میڈیا پر ایک چونکا دینے والی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک شخص کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد کرسی پر بیٹھے بیٹھے اچانک گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ واقعہ اتوار کی شام 7 بجے غازی آباد میں پیش آیا اور عمارت میں نصب سی سی ٹی وی نے اسے قید کر لیا۔ اس شخص کی شناخت عادل کے نام سے ہوئی ہے جو ایک جم ٹرینر تھا اور اس کی عمر 33 سال تھی۔ اس کے ساتھیوں نے عادل کو قریبی اسپتال پہنچایا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ وہ غازی آباد کے علاقے شالیمار گارڈن میں ایک جم کا مالک تھا اور روزانہ ورزش کرتا تھا۔

عادل کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے کچھ دنوں سے بخار کی شکایت کر رہے تھے لیکن جم جانا بند نہیں کیا۔

عادل کے چار بچے ہیں اور اس واقعے کے بعد اس کا خاندان صدمے میں ہے۔ وہ حال ہی میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں چلا گیا اور شالیمار گارڈن میں ایک دفتر کھولا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ عادل اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ اسے دل کا دورہ پڑا۔

عادل ایک فٹنس فریک تھا

موصولہ اطلاعات کے مطابق عادل فٹنس فریک تھا اور روزانہ جم میں ورزش کرتا تھا۔ پچھلے کچھ دنوں سے اسے بخار کی شکایت تھی، اس کے باوجود عادل نے جم جانا بند نہیں کیا۔ اس خبر کے بعد اہل خانہ میں صف ماتم ہے۔ گھر والے اس وقت کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہر روز جم جانے والے ایک شخص کے دل کا دورہ پڑنے سے مرنے کی خبر سن کر آس پاس کے لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا کے بعد سے نوجوانوں میں حرکت قلب بند ہونے سے اموات میں اضافہ ہوا ہے گزشتہ دنوں ممبئی میں نوراتری تہوار کے دوران گربا کھیلنے والے ایک 35 سالہ شخص کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی تھی ۔

پچھلے مہینے، جموں میں ایک فنکار اپنی پرفارمنس کے درمیان اسٹیج پر گرنے سے مر گیا۔ یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا اور اس میں یوگیش گپتا کو دکھایا گیا تھا، جو دیوی پاروتی کے لباس میں ملبوس تھے، جو جموں کے بشنہ علاقے میں گنیش اتسو میں پرفارم کر رہے تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading