ناندیڑ: 20/اکتوبر ۔( ورقِ تازہ نیوز)لوک سبھا انتخابات میں سو فیصد ایمانداری سے کام کیا گیا، پارٹی کا ڈھائی سال سے لگاتار کام جاری تھا لیکن جس شخص نے لوک سبھا انتخابات میں اپنی پارٹی کے لیے کام نہیں کیا، اسے بی جے پی میں لے جایا جا رہا ہے۔ اسمبلی انتخابات کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے۔ سابق ایم ایل اے سبھاش سوپے نے بی جے پی چھوڑ کر ریاستی ایگزیکٹو ممبر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سابق ایم ایل اے کے اس استعفی کی وجہ سے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔2019 میں، سبھاش سابنے نے شیوسینا کی طرف سے دیگلور حلقہ سے قانون ساز اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا۔ کانگریس کے راؤ صاحب انتاپورکر نے سبھاش سابنے کو شکست دی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے راؤ صاحب انتاپورکر کی موت کی وجہ سے، 2021 میں، دیگلور حلقہ میں قانون ساز اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہوا۔
اس موقع پر سبھاش سابنے نے بی جے پی پارٹی کی طرف سے شیوسینا کو جئے مہاراشٹر کہتے ہوئے ضمنی انتخاب لڑا۔ مگر ان کی شکست ہوئی تھی۔ کانگریس کے جیتیش انتاپورکر نے ووٹوں کے بڑے فرق سے سابنے کو شکست دی۔ اس دوران سبھاش سابنے نے شکست سے نہ تھکے حلقے میں تیاری جاری رکھی۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ 2024 کے انتخابات میں سابنے کو ایک اور موقع مل جائے گا، لیکن بات یہ ہے کہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے جیتیش انتاپورکر بھی میدان میں اتریں گے۔ بی جے پی سے امیدواری حاصل کریں گے۔اسلئے سابنے نے عین چناؤ سے قبل بی جے پی کو رام عام کہہ دیا ہے