عید میلادالنبی ﷺ ، چار سو سال قبل

از : عبدالملک نظامی ناندیڑ۔

عید میلادالنبی ﷺ سے متعلق یہ غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ حال کی بدعت ہے۔ جبکہ اس کی اصل کو علماء کرام نے قرآن وحدیث سے ثابت کیا ہے۔ تاریخ میں بھی اس کے قدیم حوالے موجود ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان نئی دہلی نے کلیات محمد قلی قطب شاہ شائع کی۔ محمد قلی قطب شاہ 14/اپریل 1565 عیسوی کو پیدا ہوئے۔ اپنے والد ابراہیم قطب شاہ کے انتقال کے بعد 5/ جون 1580 عیسوی کو تخت نشین ہوئے۔ یہ گولکنڈے کے پانچواں تاجدار تھے۔ جس نے حیدرآباد شہر بسایا اور چار مینار جیسی خوبصورت عمارت تعمیر کی۔

محمد قلی قطب شاہ نے 10/ دسمبر 1611 عیسوی میں وفات پائی۔ اپنے عقیدے کے بارے میں سلطان محمد قلی قطب شاہ خود کہتے ہیں کہ۔۔ اللہ محمد علی ہور گیارہ امام = یو سب اہیں قطبا کے سو آپار معاذ۔ ایک اور جگہ محمد قلی قطب شاہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ اور علی علیہ السلام کی مدح کرنے کی وجہ سے میرے اشعار کو شہرت اور مقبولیت نصیب ہوئی اور یہ ان ہی کی دین ہے۔۔ سدا تو مدح نبی و علی کی کرتا ہے = معانی شعر تیرا تو لکھے ہے دست بدست۔ آج سے تقریباً چار سو سال قبل محمد قلی قطب شاہ مولود پیغمبر علیہ السلام کی خوشیاں مناتے ہوئے کہتے ہیں کہ۔ مبارک مج اچھو یہ عید ہور مولود پیغمبر = ملے ہیں قطب کوں بارہ اماماں ہور نگاراں خوش۔ اپنی ایک نظم ” عید میلادالنبی کا جشن” میں محمد قلی قطب شاہ نے عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر محل شاہی میں جو جشن منعقد ہوا تھا اس کی بڑی متحرک اور گویا تصویر پیش کردی ہے۔ بازاروں ، محلوں اور حویلیوں کی آرائش و زیبائش، سبز و سرخ کپڑوں میں ملبوس غلاموں کی کورنش ، ہمسایہ راجاؤں کی دربار میں حاضری، لال رنگ سے حوضوں کو بھرنا، عید میلادالنبی ﷺ کی چہل پہل اور جوش و خروش، بزم نشاط کی رونق، منڈپ کی خوبصورتی، اس کے نیچے تخت پر بادشاہ کی نشست اور گہمہ گہمی کا بڑا مؤثر نقشہ محمد قلی قطب شاہ نے اپنی نظم میں پیش کیا ہے۔

اس نظم کے چند اشعار۔۔۔۔۔‌ میلاد النبی ﷺ کا جشن۔ گناے نبی کے جو مولود اننداں۔ ہمنا یوں محمد قطب شہ ترکمان۔ دیکھت شہ کی عشرت دعا کر کویں بت۔ گمو رات دن قطب شہ نت اننداں۔ نبی کی دیا تھے قیامت تلگ تم۔ گناو نبی کے سو مولود لاکھاں۔ * عید میلادالنبی ﷺ *۔ فرشتے سرگ ساتوکوں ستاریاں سوں سنوانرے ہیں۔ شہ دنیا و دیں کے تئیں عرش کرسی سنگارے ہیں۔ مگر مولود ہے شہہ کا عرش اوپر طبل کاجے۔ مراداں پاونے سارے جگت ہاتاں پسارے ہیں۔ خوشیاں تھے جگ سماتے نیں سو اپنے پیرہن میانے۔ ترہ جگ آپنا تن من شہنشہ پر نسارے ہیں۔ محمد قطب شہ غازی کرے مولود بھو چھند سوں۔ تو اس کی عمر و دولت تئیں دعا صف صف ہو ٹھارے ہیں۔ ملک ہور جن نے سب کرتے دعا شہ کا صدق سیتے۔ دنیا ہور دین میں ایسا سو ہشہ نئیں کر پکارے ہیں۔ صدق۔۔۔۔۔کاری آپ اچایا نانو دو جگ میں۔ طبق نوراں کے لئے حوراں سو شہہ پر تھے نثارے ہیں۔ بنی صدقے گنایا ہے تر کماں آج میزوانی۔ علی صدقے سے دو جگ میں بلند اس کے ستارے ہیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading