علاقہ مراٹھواڑہ کی معتبر آواز” شمس جالنوی ” کا انتقال

جالنہ۔ 21۔ جولائی۔ (ورق تازہ نیوز)بڑے افسوس کے ساتھ یہ خبر دی جارہی ہے کہ علاقہ مراٹھواڑہ کی معتبر آواز” شمس جالنوی” کا آج21 جولائی کو صبح پانچ بجے 95 سال کی عمر میں جالنہ میں انتقال ہوگیا۔ بعد نمازِ ظہر درگاہ سید احمد شیر سوار احاطہ میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ پسماندگان میں دو لڑکے اور تین لڑکیاں اور ناطے نواسے اور بھرا پورا خاندان ہے۔

شمس جالنوی کی شاعری اسی(80) سالوں کا احاطہ کرتی ہے۔ آپ کا مجموعہ کلام "تمازت” 1996 میں شایع ہو چکا ہے۔اور ہندی عبارت میں کچھ اضافہ کے ساتھ "مدھیان کا سوریہ” بھی شائع ہو چکا ہے۔ شمس جالنوی کو پورے ہندوستان میں قومی اور عالمی مشاعروں میں مدعو کیا جاتا تھا اور ادبی حلقوں میں بڑے ہی احترام کی نظر سے انھیں دیکھا جاتا تھا۔

ان کی شاعری مشاہدات اور تجربات کا آیینہ دار تھی اور حالات حاضرہ کی ترجمان رہا کرتی تھی۔ بالخصوص انھوں نے اپنے مقطعوں میں اپنے تخلص "شمس” کو بہت بہتر اور بخوبی نبھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔۔

رداے ظلمتِ شب میں شگافیں پڑ گئیں ہوں گی

افق پر شمس کو دیکھا ابھی شعلہ فشاں میں نے

رشک کریں گا سارا زمانہ پورا یہ جو ارماں ہو جائے

یار کے پایے ناز پہ نکلے شمس میرا دم ہنستے ہنستے

غروب شمس کا منظر بھی خوب منظر تھا

شفق کے رنگ میں ڈوبی ہوئی حنا کی لکیر

نوید صبحِ مسرت ملی ہے شمس مگر

ابھی تو سر پہ شب غم ہےکیا کیا جائے

کل کرن شمس کی تو دیکھ سکے گا کہ نہیں

آج کی بات کومت کل پہ اٹھائے رکھنا

وہ دیکھو ابھی شمس رخصت ہوا ہے

زمانہ کو اپنی ضیا دیتے دیتے

شمس رکھیے اپنی چادر کا خیال

لگ گئے تم پاؤں پھیلانے بہت

مجھے پوچھتے ہیں وہ اس طرح مرا نام لیکے وہ غیر سے
سر شام کیا وہی شمس تھا جو ابھی یہاں سے گزر گیا۔۔۔

اس طرح کی اطلاع لیاقت علی خان یاسر جالنوی (بانی سیکرٹری انجمن فروغِ ادب جالنہ نے دی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading