صرف 45 پیسے کا ریلوے انشورنس، ٹرین حادثے میں جان گنوانے والے مسافر کے اہل خانہ کو ملیں گے 10 لاکھ روپے

مرینا:کئی بار ریلوے ٹکٹ بک کرتے وقت لیا گیا ایک چھوٹا سا فیصلہ مستقبل میں اہل خانہ کے لیے بڑا سہارا بن جاتا ہے۔ مرینا ضلع کے ایک مسافر نے ٹکٹ بک کرتے وقت صرف 45 پیسے کا ٹریول انشورنس لیا تھا۔ انہیں شاید اندازہ بھی نہیں رہا ہوگا کہ یہ معمولی رقم ایک روز ان کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے کا سہارا دے گی۔ حالانکہ اس کے لیے انہیں کافی مشقت کرنی پڑی۔ 5 سال طویل قانونی لڑائی کے بعد کنزیومر کمیشن نے انشورنس کمپنی کو ادائیگی کا حکم دیا ہے۔مرینا کے رہنے والے روی کمار شرما نے 19 اکتوبر 2020 کو مرینا سے نظام الدین جانے لیے آن لائن ٹکٹ بک کیا تھا۔ ٹکٹ بکنگ کے دوران انہوں نے ٹریول انشورنس کا آپشن بھی منتخب کر لیا تھا۔ 21 اکتوبر کی رات تقریباً 3:20 بجے مرینا ریلوے اسٹیشن پر تیز بارش ہو رہی تھی۔

بجلی چلی جانے کی وجہ سے پلیٹ فارم پر اندھیرا تھا اور کوچ پوزیشن بتانے والا ڈسپلے بورڈ بھی بند پڑا تھا۔ جب روی اپنے مقررہ کوچ ڈی-1 تک پہنچے تو دروازہ بند ملا، دروازہ کھولنے کی کوشش کے دوران ٹرین اچانک چل پڑی۔ پائیدان پر چڑھتے وقت ان کا پیر پھسلا اور وہ ٹرین وہ پلیٹ فارم کے درمیان گر گئے۔ شدید طور پر زخمی روی کو اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹر انہیں نہیں بچا سکے۔شوہر کی موت کے بعد ان کی اہلیہ منیشا شرما نے ’انشورنس کلیم‘ کا عمل شروع کیا، انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ، ایف آئی آر اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کرائیں۔

اس کے باوجود انشورنس کمپنی بار بار دستاویز ادھورے ہونے کا حوالہ دے کر ادائیگی میں تاخیر کرتی رہی۔ مہینوں سے سال گزر گئے لیکن کلیم (دعویٰ) کا عمل مکمل نہیں ہوا۔ آخرکار 30 دسمبر 2022 کو معاملہ ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن بھوپال میں داخل کیا گیا۔سماعت کے دوران کمیشن نے پایا کہ متوفی کے پاس درست ٹکٹ اور ایکٹیو ٹریول انشورنس تھا اور حادثہ سفر کے دوران پیش آیا تھا۔ کمیشن نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ضروری دستاویزات انشورنس کمپنی کے حوالے کی جا چکی تھی اور کمپنی اضافی دستاویزات طلب کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ ادائیگی نہ کرنا خدمات میں کمی اور غیر منصفانہ تجارتی رویہ قرار دیا گیا۔کمیشن نے بیمہ کمپنی کو 10 لاکھ روپے کی انشورنس رقم 7 فیصد سالانہ سود سمیت ادا کرنے کا حکم دیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading