ممبئی: مہاراشٹر میں سینا، کانگریس اور این سی پی کے بر سراقتدار آنے کے آثار جوں جوں نمایاں ہو نے لگے عروس البلاد ممبئی میں واقع بی جے پی صدر دفتر میں سیاسی سرگرمیاں کم ہوتی دکھلائی پڑ رہی ہیں اور ایک طرح سے سناٹا سا چھا گیا ہے۔ ایک ماہ قبل نتائج ظاہر ہونے کے بعد بی جے پی کے صدر دفتر میں نومنتخب اراکین اسمبلی سے لیکر دیگر لیڈران کی بھیڑ ہوا کرتی تھی۔
دراصل بی جے پی کو یہ توقع تھی کہ جلد ہی مہاراشٹر میں سینا بی جے پی حکومت تشکیل دی جائے گی اس کیلئے ایک بڑا اسٹیج بنایا گیا تھا اور دو بڑی ایل سی ڈی لائٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔ نیز حکومت کے قیام کیلئے زور و شور سے تیاریاں بھی کی جا رہی تھیں لیکن جوں ہی بی جے پی سینا کا اتحاد ختم ہوتا دکھلائی پڑا آہستہ آہستہ بی جے پی صدر دفتر میں لیڈران کی حاضری بھی کم ہوتی دکھلائی پڑی۔
بی جے پی کے اعلی لیڈران بھی صدر دفتر نہیں آ رہے ہیں اور نہ ہی وہ ممبئی میں موجود ہیں۔ صرف وزیر اعلی دیویندر فڑنویس ہی اپنے سرکاری بنگلے ورشا سے بیٹھ کر حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹی وار چندر پور میں براجمان ہیں، جبکہ گریش مہاجن ناسک میئر انتخابات میں مصروف ہیں۔
بی جے پی کے سابق ممبئی صدر آشش شیلار ممبئی کرکٹ ٹیم ایسوسی ایشن کے ہمراہ کولکاتا پہنچے ہوئے ہیں۔ ریاستی صدر چندرکانت پاٹل کولہاپور میں اپنے آبائی گاوں میں مختلف تقاریب میں حصہ لیتے ہوئے دکھلائی پڑے۔ اسی طرح سے سابق وزیر تعلیم ونود تاوڑے اور پنکجا منڈے ممبئی میں موجود ضرور ہیں لیکن ان کی سیاسی سرگرمیاں نہیں کے برابر نظر آ رہی ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
