لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کی حمایت کر کے جنتا دل یو نے کئی لوگوں کو حیرات میں ڈال دیا۔ جنتا دل یو کے اس فیصلے سے نہ صرف عام لوگ بلکہ پارٹی کے کئی اہم لیڈران بھی مایوس ہیں۔ پارٹی کے قومی نائب صدر پرشانت کشور نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل لوگوں سے مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔ دیر رات لوک سبھا میں بل پر ووٹنگ ہونے کے بعد جب وہ پاس ہو گیا تب پرشانت کشور نے ٹوئٹ کیا کہ بل پارٹی کے آئین سے میل نہیں کھاتا۔
پرشانت کشور نے ٹوئٹ کر کے لکھا ہے کہ ’’جنتا دل یو کے ذریعہ شہریت ترمیمی بل کو حمایت دینے سے مایوسی ہوئی۔ یہ بل شہریت کے حق سے مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔ یہ پارٹی کے آئین سے میل نہیں کھاتا ہے جس میں سیکولرزم لفظ پہلے صفحہ پر تین مرتبہ لکھا ہوا ہے۔ پارٹی کی قیادت گاندھی کے اصولوں کو ماننے والا ہے۔‘‘
Disappointed to see JDU supporting #CAB that discriminates right of citizenship on the basis of religion.
It's incongruous with the party's constitution that carries the word secular thrice on the very first page and the leadership that is supposedly guided by Gandhian ideals.
— Prashant Kishor (@PrashantKishor) December 9, 2019
پرشانت کشور کے بعد جنتا دل یو کے ایک دیگر اہم لیڈر پون ورما نے بھی اس بل کی مخالفت میں آواز بلند کر دی ہے اور نتیش کمار سے فیصلے پر از سر نو غور کرنے کے لیے کہا ہے۔ جنتا دل یو ترجمان پون کمار نے منگل کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں نتیش کمار سے اپیل کرتا ہوں کہ راجیہ سبھا میں شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) پر حمایت سے متعلق دوبارہ غور کریں۔ یہ بل پوری طرح سے غیر آئینی ہے اور ملک کے اتحاد کے خلاف ہے۔ یہ بل جنتا دل یو کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے، گاندھی جی اس کی پوری طرح سے مخالفت کرتے۔‘‘
I urge Shri Nitish Kumar to reconsider support to the #CAB in the Rajya Sabha. The Bill is unconstitutional, discriminatory, and against the unity and harmony of the country, apart from being against the secular principles of the JDU. Gandhiji would have strongly disapproved it.
— Pavan K. Varma (@PavanK_Varma) December 10, 2019
حالانکہ پارٹی کے ذریعہ بل کی حمایت میں دلیلیں پیش کی گئی تھیں۔ بل پر بحث مین حصہ لیتے ہوئے لوک سبھا میں جنتا دل یو کے لیڈر راجیو رنجن عرف للن سنگھ نے کہا کہ جنتا دل یو بل کی حمایت اس لیے کر رہی ہے کیونکہ یہ سیکولرزم کے خلاف نہیں ہے۔ راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ ایوان میں کچھ لوگ اپنے اپنے حساب سے سیکولرزم کی تعریف بیان کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بل کسی بھی طرح سے سیکولرزم کے خلاف نہیں ہے۔ راجیو رنجن نے یہ بھی کہا کہ اس بل سے متعلق شمال مشرق کے لوگوں کو کچھ اندیشے تھے، لیکن اب ان اندیشوں کو بھی دور کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ اتنے وقت سے انصاف کی امید لگائے ہوئے تھے، انھیں یہ بڑی راحت فراہم کرے گا۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
