حیدرآباد20اکتوبر(یواین آئی)بارش کی تباہ کاریوں کے سبب خوف کے سائے میں زندگی گذارنے والے شہریاں حیدرآبادکے لئے ایک اور مصیبت کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ گذشتہ روز کی طرح آج بھی شہر میں شدید بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات نے پہلے ہی گذشتہ روز اپنے بلیٹن میں آئندہ چاردنوں تک بارش کی پیش گوئی کی تھی۔آج دوپہر اچانک گہرے بادل آسمان پر چھاگئے اور بارش ہونے لگی۔گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی)نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گھروں میں ہی محدود رہیں اور باہر نہ نکلیں۔جی ایچ ایم سی کی ڈی آرایف ٹیمیں سرگرم ہوگئی ہیں۔شہر کے نشیبی علاقوں سے لوگوں کومحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے لئے 37کشتیوں کا استعمال کیاجارہا ہے
۔شہر کے جوبلی ہلز،فلم نگر،حیات نگر،دلسکھ نگر،بیگم پیٹ،اُپل،کوتہ پیٹ،سنتوش نگر،سکندرآباد،میرپیٹ،رامنتاپور،حبشی گوڑہ،ملکاجگری، ونستھلی پورم،لنگم پلی،حیات نگر،ناچارم،مشیرآباد،کاپرا،اپوگوڑہ،شیواجی نگر،مادھاپور،لکڑی کا پْل،صنعت نگر،امیرپیٹ،خیریت آباد،گچی باولی،اْپل،ایل بی نگر، کوٹھی،چیتنہ پوری،ہائی ٹیکس،کوکٹ پلی،بوئن پلی،تارناکہ،چرلہ پلی،نلہ کنٹہ،عنبرپیٹ،کوٹھی،لالہ گوڑہ اور پرانا شہر کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔بارش کاپانی سڑکوں پر جمع ہوگیا جس کے نتیجہ میں سڑک استعمال کرنے والوں کو دشواریوں کا سامنا کرناپڑا۔جی ایچ ایم سی کے عہدیدار محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش کے انتباہ کے بعد چوکس ہوگئے۔ شہر کے کئی علاقوں میں ہنوز پانی بھراہوا ہے،دوسری طرف متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
شہر حیدرآباد میں منگل کی دوپہر ہوئی بارش کے دوران بشیر باغ کی اسکائی لین تھیٹر کے قریب واقع اولڈ کمیلہ بستی میں دو مکانات منہدم ہوگئے۔اس وقت مکانات میں کوئی بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔یہ مکانات خستہ حالی کے شکار تھے۔جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے جے سی پی کی مدد سے ان مکانات کی مٹی کی نکاسی کروائی۔ان مکانات کے ذمہ داروں نے حکومت سے امداد کی اپیل کی ہے۔