شولاپورمسلم نوجوانوں کے بھو پال مقدمہ میںآخری بحث مکمل’ اس ماہ فیصلہ ممکن

بھو پال۔9 جنوری ( پریس ریلےز) دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث اور سیمی سے تعلق کے الزام میں شولاپور سے گرفتار 4مسلم نوجوانوں کے مقدمات جس کی سماعت تیز رفتاری سے بھوپال کی خصوصی سیشن عدالت میں چل رہی تھی آج آخری بحث مکمل ہو گئی ہے اور اسی ماہ میں جلد ہی فیصلہ آنے کی توقع اور ملز مین کو انصاف ملنے کی امید کی جا رہی ہے ۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظےم جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شو لا پور کے ۴ مسلم نو جوان جن پر دو بڑے اہم کےس بنائے گئے تھے جن میں نمایاں طور پر اسپیشل سیشن کےس 502/2014 ,جوکہ ےو اے پی اے10,13,16,18,38,39, تعزیرات ہند کی دفعہ 307 اور دھماکہ خیز مادہ دفعہ 4,5,6, کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ جمعیة علماءمہا راشٹر کی لےگل ٹےم نے بڑی محنت لگن اور جستجوسے اس مقدمہ کی عدالت میں پیروی کی ،اس مقدمہ میں 35 گواہوں کی بحث و جرح کی بعدبھوپال عدالت میں جسٹس گریش دکشت کے رو برو آخر ی بحث کی تکمےل عمل میں آئی،ہماری طرف سے اس مقدمہ میں جمعیة لیگل سےل کے سکریٹری سینر کریمنل لائر ایڈوکےٹ پٹھان تہور خان نے ذاتی طور پراہم قا نونی نکات پر مشتمل موقف عدالت کے سامنے پیش کیا ،اس فائنل بحث کے مد نظر شو لا پور کے ملز مین کو انصاف ملنے کی امید کی جا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میںکل ۷۱مسلم نوجوان ماخوذ تھے ،جن میں سے پانچ کا تعلق شولاپور سے تھا اور بقیہ کا تعلق ملک کے دیگر مقامات سے یہ تمام ملز مین بھوپال کی سینٹرل جیل میں قید تھے ان میں سے۸کا دو سال قبل۶۱۰۲ ءمیں ۱۳اکتوبر کو جیل میںلکڑی کی چابھی وچادر کی سیڑھی کی مدد سے فرار ہونے کے الزام میں بھوپال سے قریب ایک گاو¿ں میں انکاو¿نٹر کردیا گیا تھا۔ جن میں شولاپور کا خالد مچھالے نامی ملزم بھی تھا۔ اس انکاو¿نٹر کی اعلیٰ سطحی تفتیش کے لئے جمعیة علماءسپریم کورٹ رجوع ہو چکی ہے۔خالدمچھالے کا انکاو¿نٹر میں قتل کے بعد بقیہ چار ملزمین کے مقدمات کی پیروی جمعیة علماءمہاراشٹر کررہی ہے جس میں جلد ہی فیصلہ آنے کی امید ہے ۔ جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ اس مقدمے میں پولیس اور اے ٹی ایس کی جانب سے اس قدر دھاندھلی کی گئی ہے کہ قانون کا معمولی شد بد رکھنے والا بھی اس معاملہ کو اچھی طرح سمجھ جائے گا۔ اس کے باوجود اس مقدمے کو الجھا کر رکھا گیا تھا، اس وقت مقدمہ کی تمام عدالتی کار وائیاں تقریبا مکمل ہو چکی ہیں جلد ہی اس کا فیصلہ آنے کی توقع ہے جس میں ہمیں قوی امید ہے کہ نہ صرف شولاپور کے ملزمین بلکہ دیگر تمام ملزمین کو بھی انصاف ملے گا اور ان کی رہا ئی عمل میں آئے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading