قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے دہلی میں ہونے والے انتخاب کے ایام کو شاہین باغ کے تعلق سے تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اب انتخاب ہوچکا ہے امید ہے کہ اب شاہین باغ خاتون مظاہرین کے بارے میں غلط بات نہیں کہی جائے گی۔
شاہین باغ خاتون مظاہرین نے کہاکہ دہلی میں جب سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تھا اس وقت سے اب تک اس کے بار میں طرح طرح کی باتیں کرکے ہمیں ذہنی طور (مینٹل ٹارچر) پرہمیں پریشان کیا گیا۔ کبھی ہمیں 500روپے لیکر بیٹھنی والی بتایا گیا تو کبھی بریانی کھانے والی بتایا گیا۔کبھی گولی چلاکر ہمیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو کبھی کسی کو بھیج کر ہمارے خلاف سازش کی گئی۔ کبھی جینے کی آزادی کے نعرے کو جناح کی آزادی کا نعرہ کا الزام لگاکر ہمیں ملک کا غدار بتایاگیا۔
خاتون مظاہرین نے کہا کہ ’ ہم لوگ سب کچھ سہتے رہے اورپرامن طریقے سے مظاہرہ کرتے رہے‘۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ سمجھ رہی تھیں کہ یہ سب دہلی میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔اب جب کہ الیکشن ختم ہوگیا ہے اور حق رائے دہی کا عمل پورا ہوگیا ہے اب امید ہے کہ ہمارے احتجاج کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کہی جائے گی۔ بلکہ ہماری آواز سنی جائے گی۔
واضح رہے شاہین باغ کی خواتین کا مظاہرہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا ہے اور ملک کے کئی حصوں میں شاہین باغ کی طرح مظاہرہ ہو رہے ہیں ۔ شاہین باغ کی خواتین کو اس بات کا دکھ ہے کہ ان کے اتنے لمبے وقت سے جارری مظاہرہ کو لے کر طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان سے بات کرنے کے لئے کوئی پہل نہیں کی گئی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو