بازار میں زبردست گراوٹ کی وجہ سے شئیر مارکیٹ میں حالات سنگین ہو گئے ہیں اور دس سال میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب شئیر مارکیٹ میں اتنے پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ سینسیکس کے2467 پوائنٹس نیچے آنے کی وجہ سے اس وقت سینسیکس 35,109.18 پر آ گیا ہے۔
يس بینک اور کورونا وائرس کے اثرات سے ملک کا اسٹاک مارکیٹ بری طرح متاثر ہے۔ کاروباری ہفتے کے پہلے دن چاروں طرفہ فروخت کے دباؤ میں نفٹی 695 پوائنٹس گر کر 10,294.45 پر آگیا ہے۔
پیر کو آغاز میں ہی سینسیکس جمعہ کو بند 37576.62 کے مقابلے میں 626.42 پوائنٹس گھٹ کر 37 ہزار سے نیچے 36950.20 پوائنٹس پر کھلا۔ کاروبار کے شروع سے ہی چہار جانب فروخت کا دباؤ رہنے سے تقریباً 1200 پوائنٹس نیچے یعنی 36388.28 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس کے بعد معمولی بہتری سے یہ 36427.44 پوائنٹس پر پہنچا۔ یہ سطح جمعہ کے بند کے مقابلہ میں تقریباً 1150 پوائنٹس نیچے ہے لیکن اس کے بعد بازار میں مزید گراوٹ آئی۔
#Sensex 2,419 अंक गिरा-6.44%
₹6 लाख करोड़ डूबे1 US $=₹74.04
₹ इतिहास में सबसे कमजोरIDBI बैंक, PMC बैंक, IL&FS और YES बैंक डूबे- लोगों का भरोसा बैंकिंग सेक्टर से उठा
कच्चा तेल-$32.11 प्रति बैरल
पर देश में पेट्रोल ₹71,डीजल ₹64और मीडिया कहे -जय मोदी जी- ये हैं अच्छे दिन
— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) March 9, 2020
اس سارے معاملہ پر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کر کے کہا ’’سینسیکس 2419 پوائنٹس نیچے آیا (گزشتہ دس سال میں سب سے زیادہ)۔ ایک امریکی ڈالر کی قیمت ہندوستانی روپے میں 74.04 روپے (اب تک کی سب سے کم)۔ آئی ڈی بی آئی بینک، پی ایم سی بینک، آئی ایل اینڈ ایف سی اور یس بینک کے ڈوبنے کی وجہ سے لوگوں کا بینکنگ نظام پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لیکن میڈیا صرف یہی کہے گا۔ جے مودی جی۔ اچھے دن یہاں پر ہیں۔‘‘
گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری دن اسٹاک مارکیٹ میں زبردست افراتفری تھی اور جمعہ کو کاروبار کے اختتام پر بی ایس ای کا سینسیکس 893.99 پوائنٹس اور نفٹی بھی 289.45 پوائنٹس گرکر بالترتیب 37576.62 اور 10979.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو