نئی دہلی،:.جس وقت انڈین وزیراعظم نریندر مودی دلی کے کڑ کڑ ڈوما علاقے میں انڈین فوج کی حالت سدھارنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی کمر تھپتھپا رہے تھے اسی وقت سیاچن، لداخ اور ڈوکلام میں موجود انڈین فوجیوں کو خوراک کی کمی، برف پر چمکتی تیز دھوپ سے بچنے کے لیے لگائے جانے والے خاص چشمے اور جوتے تک نہ مل پانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
18 سے 32 ہزار فٹ بلندی والے سیاچن اور دوسرے برفیلے فارورڈ پوسٹ میں جوانوں کے پاس ان چیزوں کی کمی کی بات ’کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل‘ یعنی سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے جسے کچھ دن پہلے ہی ایوانِ بالا میں پیش کیا گیا تھا۔انڈیا میں سی اے جی آڈٹ کا مرکزی سرکاری ادارہ ہے۔انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر موجود سیاچن فارورڈ پوسٹ انڈیا کے لیے حفاظی نقطتہ نظر سے بہت اہم پوسٹ ہے۔
فوج کے سربراہ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ میں 2015 اور 16 کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ہے جو اب پرانی بات ہو چکی ہے ‘میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ آج ہم پوری طرح تیار ہیں۔ اور ہم اس بات کو یقین بنائیں گے کہ جوانوں کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھا جا ئے۔
فوج کے سابق میجر جنرل اشوک مہتہ نے بی بی سی سے کہا کے سی اے جی کی رپورٹ میں جو کہا گیا ہے وہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کسی بھی غیر متوقع صورتِ حال کے لیے تیار نہیں ہیں۔
(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام،)