نئی دہلی:میرا-بھائندر میونسپل حدود میں واقع اُتّن گاؤں کے سمندر کنارے موجود بالے شاہ پیر درگاہ کے انہدام کا اعلان کرنے والے مہاراشٹر کے محصول کے وزیر چندرشیکھر باونکولے کو پیر کے روز سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ درگاہ میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کے منصوبے پر چیف جسٹس بھوشن گوئی اور جسٹس اے جی مسیحا کی بنچ نے روک لگا دی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگلے چار ہفتوں تک اس معاملے میں کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
چیف جسٹس بھوشن گوئی نے حال ہی میں پونے کے جنگلاتی علاقے کی 30 ایکڑ زمین بلڈر کو دینے کے 27 سال پرانے اس وقت کے ریونیو وزیر نارائن رانے کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔ اب رانے کے بعد باونکولے کو بھی عدالت نے جھٹکا دیا ہے۔ فڈنویس حکومت نے حال ہی میں اسمبلی میں بالے شاہ پیر درگاہ پر کارروائی کی بات کہی تھی، جس کے بعد درگاہ کو انہدام کا نوٹس دیا گیا تھا۔
اس کے خلاف درگاہ کے چیریٹیبل ٹرسٹ نے گزشتہ ہفتے ایڈووکیٹ پرشانت پانڈے کے ذریعے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لیکن تعطیلاتی بینچ نے ٹرسٹ کو راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ٹرسٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے اب اس معاملے میں اگلے چار ہفتوں کے لیے جوں کا توں حکم دیا ہے۔
اُتّن کے چوک کے علاقے میں تقریباً 1,290 مربع میٹر یعنی لگ بھگ دس ہزار مربع فٹ زمین پر یہ درگاہ تعمیر کی گئی ہے۔ مہاراشٹرا حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین محصول (ریونیو) محکمے کی ملکیت ہے، جس پر غیر قانونی طور پر درگاہ کے نام پر قبضہ کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ریاستی حکومت نے 20 مئی تک یہ تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ اس درگاہ میں خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ میرا بھائیندر میں واقع اس درگاہ کے قریب ایک مسجد بھی ہے جہاں نماز ادا کی جاتی ہے۔ اُتّن گاؤں میں ایک پہاڑی کے قریب واقع یہ مزار اب تنازعے کی وجہ بن چکا ہے۔