نئی دہلی: معروف ماحولیاتی کارکن اور سماجی رہنما سونم وانگچک نے نیٹ پیپر لیک اور طلبہ سے متعلق مسائل پر جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ 26 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال پر تھے، جبکہ جمعہ کو ان کی ہڑتال کا 27واں دن تھا۔
اطلاعات کے مطابق مرکزی وزیر جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسپتال پہنچ کر سونم وانگچک سے ملاقات کی اور ان سے بھوک ہڑتال ختم کروائی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے طلبہ کے نام جاری کیے گئے ویڈیو پیغام کے بعد سونم وانگچک نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے اپنے ویڈیو پیغام میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مرکزی کابینہ کی آئندہ میٹنگ میں پیپر لیک کے معاملے پر سخت فیصلے کیے جائیں گے اور امتحانی نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
سونم وانگچک نے 28 جون سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ 18 جولائی کو طبیعت بگڑنے کے بعد پولیس انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا تھا۔بعد ازاں ان کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں سونم وانگچک کو کسی نجی اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی گئی۔ عدالت کے حکم کے بعد انہیں گروگرام کے میدانتا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری تھا۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک نیٹ پیپر لیک، امتحانی نظام میں شفافیت اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے مطالبات کو لے کر طویل عرصے سے احتجاج کر رہے تھے۔