اسانغنی مشتاق رفیقیؔ
ایک ٹمل کہاوت ہے، بندر کے ہاتھ میں پھولوں کی مالا، آج کل ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون اور اس کے وساطت سے سوشیل میڈیا دیکھ کر یہی کہاوت یاد آتی ہے۔ سوشیل میڈیا کیا ہاتھ لگا ہر کوئی دانشور، عالم، مجدد،مفتی اور سائنس دان بنا پھررہا ہے۔ کوئی بھی بات ہو بغیر اُس میں ٹانگ اڑائے اِن داناؤں کو چین نہیں آتا۔ ستم بالائے ستم واٹس اپ میں تو یہ شتر بے مہار کی طرح گھومتے ہیں۔ کہیں سے کوئی ایک پوسٹ ہاتھ لگی یا کوئی بات معلوم ہوئی، فوراً سے پیشتر جتنے بھی گروپس میں یہ ہوتے ہیں اُن میں اِس پوسٹ اور بات کوشیئر اور فارورڈ کئے بنا اُن سے رہا نہیں جاتا۔ بغیر یہ دیکھے کہ یہ جو چیز شیئر اور فارورڈ کر رہے ہیں وہ سچ ہے یا جھوٹ، اصلی ہے یا بناوٹی، اگر سچ ہے تو اس کو آگے بھیجنے سے کسی کو کچھ فائدہ ہوسکتا ہے یا نقصان، اگر نقصان کا اندیشہ ہے تو آگے کیوں بھیجیں، اگر جھوٹ ہے تو اس کو شیئر اورفارورڈ کرنے سے کیا کیا مشکلات کھڑے ہوسکتے ہیں، نفسیاتی طور پر ایسے پوسٹ کس حد تک معاشرے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، ان سب باتوں پر غور کرنے لئے نہ اُن کے پاس وقت ہوتا ہے نہ اتنی قابلیت بس ایک جنون کہ یہ بات سب سے پہلے ہم نے پہنچائی۔ اپنی انا کی تسکین کے خاطر یہ کتنا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اس کا اندازہ شاید ہی کبھی انہیں ہوتا ہو۔
اِن شتر بے مہاروں میں کچھ مسلکی جنونی ہوتے ہیں جو ہر وقت ہر جگہ اپنے مسلک اور مکتبہ ء فکر سے تعلق رکھنے والے پوسٹ لگانا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور شرمندگی کے لاکھ منع کرنے کے باوجود یہ اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے بھرنے کی چکر میں ایسے ایسے من گھرٹ باتیں پھیلاتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ کچھ اللہ میاں کی گائے کی طرح ہوتے ہیں جنکا کام ہر اُس پوسٹ کوجس میں مذہب کی بو باس ہو آگے بڑھاتے رہنا ہے، جیسے فلاں آیت اتنے بار پڑھنے سے فلاں بیماری دور ہوجائے گی۔ یا ایسے بیگن، آلو اور ٹماٹر کی تصویر جن میں اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہو۔ یاہر دوسرے تیسرے دن امت کی پریشانی دفع کرنے کے لئے قنوتِ نازلہ آیاتِ کریمہ اور ختمِ خواجگان پڑھنے کی درخواست۔ اُنہیں بھی کتنے ہی بار اس پر ٹوکا جائے یہ ٹوکنے کو نظر انداز کر کے پورے خلوص کے ساتھ اپنے اس کار لایعنی میں لگے رہیں گے۔ کچھ لوگ اتنے یاسیت زدہ ہوتے ہیں کہ ہنسی مذاق کے گروپس میں بھی رونے اور سسکنے والی باتیں ہی ارسال کرتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ موت کی خبر پھیلانے میں بڑی دلچسپی دکھاتے ہیں۔ جیسے ہی کہیں سے کسی کی موت کی اطلاع ملی بریکنگ نیوز کی طرح فوراً اسے گروپس میں وائرل کر دیتے ہیں۔ نہ جانے ایسا کر کے وہ اپنے کس جذبے کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ کچھ لوگ اذیت پسند ہوتے، سختی سے منع کرنے کے باوجود حادثات کی تصاویر بڑی چاؤ سے لگا تے ہیں، کچلی ہوئی لاشیں، کٹے ہوئے اعضاء، سسکتے ہوئے زخمی،بعض اوقات یہ تصاویر اتنے بھیانک ہوتے ہیں کہ روح تک کانپ جاتی ہے۔ہجومی تشدد اور کشمیرکے ویڈیو س وائرل کرانا آج کل ان کا محبوب مشغلہ۔ نہ صرف یہ ملکی بلکہ غیر ملکی ہجومی تشدد کے ویڈیوس بھی مقامی نام لگا کر ڈھرلے سے وائرل کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان ویڈیوس کو دیکھنے سے لوگوں میں خوف اور ڈر کے نفسیات جاگیں گے اور معاشرہ سخت دہشت کا شکار ہوگا، لیکن پھر بھی یہ ذہنی مریض اپنی اذیت پسند انا کی تسکین کے لئے مسلسل ایسا کرتے رہتے ہیں۔
مواصلات کے اس ترقی آفتہ دورمیں سوشیل میڈیا پہ قدغن لگانا ناممکن ہے۔ حکومت اپنی لمبی پہنچ کے باوجود اس معاملے میں بے دست وپا نظر آتی ہے۔ ایسے میں ہم اور آپ کیا کرسکتے ہیں،یہ سوچ غلط ہے۔ سوشیل میڈیا کو اگر کوئی مہار دے سکتا ہے تو وہ ہم اور آپ ہی ہیں۔ آج ہی سے یہ طے کرلیں کہ ہم بغیر تحقیق کے کوئی پوسٹ آگے نہیں بڑھائیں گے۔ ضعیف العتقادی والے پوسٹ، جذباتی بھڑکاؤ اور فرقہ پرست مسلکی پوسٹ، بھیانک حادثات کے تصاویر، ہجومی تشدد اور کشمیر کے ویڈیوس نہ خود آگے بڑھائیں گے نہ کسی کو بڑھانے دیں گے، جو ایسا کریں اُسے سختی سے روکیں گے، اگر اس پر بھی کوئی بضد رہے تو اس کے ساتھ سوشیل میڈیا میں قطع تعلق کرلیں گے یعنی اُسے بلاک کر دیں گے۔ اگر ہم میں کا ہر فرد اتنی سی بات پر بھی عمل کر لے تو اسی سوشیل میڈیا سے جو آج بظاہر سماج میں انتشار کا ذریعہ بنا ہوا ہے معاشرے کو تقویت پہنچانے کااس کی اصلاح اور ترقی کا، پست ہوتے حوصلوں کو بلند اور طاقتور بنانے کا،خوف اور ناامیدی کے تصورات سے نکال کر امید اور بے خوفی پیدا کرنے کا، بہت سارا کام ہم لے سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔