سورج کی کرنوں میں جلد فنا ہو جاتا ہے کورونا وائرس 19….. امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ

سورج کی روشنی میں جلد فنا ہو جاتا ہے کورونا19 وائرس….. امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ………. (بحوالہ NDTV) امریکی محکمہ صحت کے افسران نے ایک تحقیق کے حوالے سے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس سورج کی کرنوں کے رابطے میں آنے سے جلد فنا ہو جاتا ہے – لیکن اس تحقیق کو ابھی عمومی طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے –

ہوم لینڈ سیکورٹی کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے مشیر ولیم برائن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو یہ بات بتائی ہے کہ ‘سرکاری سائنس دانوں نے ایک انو کھی تحقیق میں یہ بات دریافت کی ہے کہ سورج کی شعاعوں کا پیتھوگان پر اثر پڑتا ہے –

برائن نے مزید کہا ہے کہ "آج تک کی ہماری تحقیق میں سب سے خاص بات یہ پتہ چلی ہے کہ شمسی شعاعیں وائرس کو ہوا میں فنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے – درجہ حرارت اور نمی میں بھی یہی نتائج سامنے آئے ہیں”

اس کے علاوہ برائن نے میری لینڈ میں واقع نیشنل بایو ڈیفینس اینا لیسس اینڈ کاؤنٹر میجر س سینئر کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحقیق کے مطابق 21سے 24 ڈگری درجہ حرارت میں تقریباً 18 گھنٹے میں یہ وائرس آدھا ختم ہو جا تا ہے – دروازوں کے ہینڈل اور اسٹین لیس اسٹیل پر بھی اس کا اثر اتنا ہی پایا گیا – جب نمی میں ٪80 اضافہ کیا گیا تو تب یہ وائرس صرف 6 گھنٹے میں فوت ہو گیا – یہ مشاہدہ جب وائرس کو شمسی شعاعوں کے راست رابطے میں رکھ کر گیا تو اس وائرس کو فوت ہونے کے لئے صرف دو منٹ کا وقفہ درکار ہوا-عام حالات میں یہ وائرس ہوا میں صرف دیڑھ منٹ میں ختم ہو جاتا ہے – ولیم برائن نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی ہے کہ گرمی کی شدت بڑھنے سے اس وائرس کے پھیلنے میں کمی واقعہ ہوگی –

برائن نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ "یہ بات ہمارے لئے غلط فہمی کا باعث ہو گی اگر ہم یہ بات تسلیم کرلیتے ہیں کہ گرمی کے آتے ہی یہ وائرس پور طرح ختم ہو جائے گا اور لوگ اس کے متعلق احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چوڑ دیں گے – ان سب کے باوجود لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا لازمی ہو گا.

"ٹیکساس میں واقع اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں بائلو جیکل سائنسیس کے چیر مین بنجامن نیومین نے اس بارے میں کہا ہے” اچھا ہو گا اگر پتہ چلے کہ یہ جانچ کس طرح سے کی گئی اور نتیجوں کو کس بنیاد پر پرکھا گیا ہے کیونکہ وائرس کو گننے کے کئ طریقے ہو تے ہیں – یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس نظریہ سے پڑھنا چاہتے ہیں”. یہ بات واضح بھی ہو چکی ہے کہ زیادہ درجہ حرارت والے ممالک میں اس وائرس کی پھیلنے کی شرح کم ہےاور ان ممالک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور معاملات کم پائے گئے ہیں –

آسٹریلیا میں کورونا کے 7000 معاملے سامنے آئے ہیں اور وہاں 7 7 اموات واقع ہو چکی ہیں – دیگر گرم خطے کے ممالک میں بھی کورونا وائرس متاثرین کے معاملات کم پائے گئے ہیں –

امریکی محکمہ صحت کے افسران کا یہ ماننا ہے کہ بھلے ہی یہ وائرس گرمیوں میں دھیما ہو جاتا ہے لیکن دیگر امراض کی طرح سردیوں میں اس مرض کے پھیلنے کے قوی امکانات رہتے ہیں –

فی الحال اس ضمن میں مزید تحقیق جاری ہے اور بہت جلد ہی عمومی طور پر اس تحقیق اور اس کی دریافت کا اعلان کیا جائے گا – اس سے قبل بھی یہ بات کہی گئی تھی ک الٹرا وائلیٹ شعاعیں کورونا وائرس کو متاثر کرتی ہیں –

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading