اتر پردیش کے سنبھل میں تاریخی ’رانی کی باؤڑی‘ کی کھدائی بدھ کے روز اس وقت روک دی گئی جب اندر سے دھوئیں کی طرح کچھ نکلتا ہوا محسوس ہوا۔ آج اس باؤڑی میں کھدائی کا تیرہواں دن تھا اور دوسری منزل کا دروازہ بھی دکھائی دینے لگا تھا۔ کھدائی جاری تھی، لیکن اے ایس آئی کی سروے ٹیم کو کچھ خطرناک اشارہ ملا،
جس کے بعد مزدوروں کو باؤڑی کے اندر جانے سے روک دیا گیا۔ اے ایس آئی ٹیم نے خطرہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے اور کوئی دردناک واقعہ نہ ہو، اس لیے مزدوروں سے کام فی الحال روکنے کو کہہ دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ سنبھل ضلع کے چندوسی واقع لکشمن گنج محلہ میں کئی دنوں سے باؤڑی کی کھدائی چل رہی ہے۔
بدھ کے روز جب تیرہویں دن کی کھدائی چل رہی تھی تو اے ایس آئی کی ٹیم نے یہاں پر اپنا سروے جاری رکھا۔ تقریباً 25 فیٹ تک باؤڑی کی کھدائی ہونے کے بعد اس میں دوسری منزل کا دروازہ دکھائی دینے لگا۔ بتایا جاتا ہے کہ اے ایس آئی کی ٹیم نے بدھ کو جب باؤڑی کی دوسری منزل کے اندر جا کر سروے کیا تو یہ جانکاری سامنے آئی کہ دیواریں کمزور ہیں اور نیچے آکسیجن کی کمی جیسے اشارے بھی ملے۔
اس کے بعد اے ایس آئی محکمہ کی ٹیم نے مزدوروں کو دوسری منزل کے اندر جانے سے روک دیا۔ ساتھ ہی باؤڑی میں کھدائی کا کام بھی فوری طور پر بند کر دیا گیا۔