سلام شاہین باغ کی شاہیناؤں کو

مزمل حسین قاسمی کھائی کھیڑہ

مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی لیڈرشپ کے موروثی وعملی انحطاط کی وجہ سے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلمان آہستہ آہستہ غیر اہم اور غیر فعال کر دیئے گئے تھے.

لیکن حالیہ احتجاجی مظاہروں سے امید کی کرن نظر آنے لگی ساتھ ہی ساتھ ہندوؤں اور دیگر اقلیتی گروہوں جیسے دلتوں آدیواسیوں اور سکھوں کی طرف سے مظاہرین کو ملنے والی سپورٹ سے ہندتوا منصوبے کی چولیں ہِلْکر رہگئی اور وطن عزیز بھارت میں ہندتوا انتہا پسندی سے آزادی ممکن دکھائی دے رہی ہے.

خواتین نے اس تحریک میں ایسی روح پھونکی کہ سنہ 1947 سے لے کر آج تک کسی تحریک میں خواتین کی اس قدر جذباتی حصہ داری نظر نہیں آتی جتنی کہ سی اے اے مخالف تحریک میں نظر آئی۔
شہریت کے معاملے نے مردوں کی طرح خواتین کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہاں تک دیکھا گیا کہ دس بارہ سالہ لڑکیاں بھی سڑک پرفلک شگاف نعرے لگا رہی ہیں کہ ’نکلو نکلو، گھر سے نکلو‘ اور ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ہم لیکے رہیں گے آزادی سی اےاے سے آزادی ظلم سے آزادی خوف سے آزادی…………………………
ان لڑکیوں کے نعروں میں ان کے وجود کے بارے میں کہیں نہ کہیں خوف اور گہری تکلیف پوشیدہ ہے۔ مظاہرے میں بہت سی بوڑھی خواتین بھی رکشہ پر بیٹھ کر حصہ لے رہی ہیں اور نیوز چینلوں پر اپنے عزائم کا اظہار کررہی ہیں جیساکہ بی بی سی وغیرہ پر دیکھا جاسکتا ہے
اس کپکپاتی سردی میں ایک عورت اپنے گود میں اپنے بیس دن کے بچے کو ساتھ لیکر پندرہ دن سے مسلسل دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ خواتین اس معاملے میں کتنی سنجیدہ اور فکر مند ہیں
مردوں کے مقابلے میں خواتین سیاسی دباؤ میں جھکتی نہیں کیونکہ مردوں کی طرح ان کے سیاسی عزائم نہیں ہوتے بلکہ یہ ان کے لیے ایک جذباتی مسئلہ ہوتا ہے
سلام ان عورتوں کو سلام ہے ان شاہین باغ کی شاہیناؤں کو سلام ہے جامعہ ملیہ کی ان شیرنیوں کو جنکی غیرت نے پورے ملک کو متحد کردیا تاریخ میں ان کا کردار ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگیا جسے کبھی بھلایا نہیں جائے گا
#انقلاب_زندہ_باد #ہندوستان_زندہ_باد

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading