ایک وقت کوڑی کوڑی کو محتاج اتر پردیش کے گونڈا ضلع واقع وزیر گنج علاقہ میں ڈالر، دینار، یین اور ریال کی خوب بارش ہو رہی ہے۔ غیر ملکی کرنسی کی اس جگہ کچھ ایسی بارش ہو رہی ہے کہ ان کی جھگی جھونپڑیاں دھیرے دھیرے پختہ مکانات میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں اور ان کے بچے اچھے اسکول و کالج میں تعلیم حاصل کرنے لگے ہیں۔ دراصل غریب طبقے کے لوگوں کے خوابوں کو سافٹ ویئر انجینئر ڈاکٹر دیپین سنہا نے پنکھ لگا دیئے ہیں۔ گونڈا ضلع کے وزیر گنج علاقہ کے نوبستہ باشندہ ڈاکٹر سنہا نے اپنے سوشل انجینئرنگ کے دم پر علاقے کے لوگوں کو غیر ملکی زمین پر پہنچا کر روزگار دلانے میں مدد کی ہے۔ جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے مسلمان اور ہندوؤں کی اب کوٹھیاں خوب چمک رہی ہیں۔
ڈاکٹر سنہا نے پہلے امریکہ کے نیو جرسی واقع ایک سافٹ ویئر کمپنی میں ملازمت کی۔ پھر اپنے علاقے کے کافی لوگوں کو کولمبو، سنگاپور، انڈونیشیا، دوبئی وغیرہ ممالک میں بھیجنے میں مدد کی۔ انھیں دیکھ کر مسلم برادری کے لوگوں نے بھی کوششیں کیں اور اپنے اہل لوگوں کو غیر ممالک میں روزگار دلوانا شروع کیا۔
امریکہ کے نیو جرسی میں ڈاکٹر سنہا کی اب خود کی سافٹ ویئر کمپنی ہے۔ جگدیش پور کٹرا کے محمد وسیم سیریا کے دمشق میں ریستوراں چلا رہے ہیں۔ بھگوہر کے نثار سمیت تین بھائی سعودی عرب میں ہیئر کٹنگ یعنی حجامت بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ نام تو صرف چند مثالیں ہیں۔ وزیر گنج ترقیاتی ڈویژن کے تقریباً 200 سے زیادہ لوگوں نے روزی روٹی کے لیے سات سمندر پار کے ممالک کا انتخاب کیا ہے۔ تقریباً نصف درجن سے زیادہ ممالک میں ان ہندوستانی ہاتھوں کے ہنر کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
وزیر گنج کا گوریا گاؤں رول ماڈل بن گیا ہے۔ اس گاؤں کے 30 لوگ بیرون ممالک میں ایک خاص علاقہ قائم کر چکے ہیں اور اپنے اپنے ہنر کا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ افراد ملک میں غیر ملکی کرنسی بھیج کر معاشی حالت مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔
غربت کے لحاظ سے اتر پردیش کے نقشے پر نیچے سے تیسرے پائیدان پر کھڑا یہ ضلع ناخواندگی سے اب بھی نبرد آزما ہے، لیکن تبدیلی کی لہر نے لوگوں کے ذہن میں امید کی شمعیں جگا دی ہیں۔ ایک ایک کر کے پسماندگی دور ہونے لگی ہے۔ پورے علاقے میں جھگی جھونپڑی کی جگہ آر سی سی والے پختہ مکانات بن رہے ہیں۔
گونڈا واقع نوبستہ انڈسٹری کے منیجر پنکج دوبے کا کہنا ہے کہ ’’دیپین سنہا آج ہمارے علاقے کے رول ماڈل بن چکے ہیں۔ انہی کے سبب ہمارے گاؤں کے آس پاس کے کئی لوگ بیرون ممالک میں ہیں۔ انھوں نے یہاں روزگار کے لیے بھی ایک فیکٹری ڈالی ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں میں اپنے کیریر کا سکہ بیرون ممالک میں جمانے کی خواہش بڑھ رہی ہے۔ کافی لوگوں نے کئی ممالک کے مختلف حصوں میں جانے کی تیاری کر رکھی ہے اور باقاعدہ درخواست دے رہے ہیں۔ پاسپورٹ بنوانے کے لیے 200 سے زائد درخواست کنندگان کے کاغذات جمع کیے ہوئے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
