سعودی عرب: ذہنی مردہ تین افراد کے اعضا 14 مریضوں میں منتقل

سعودی عرب میں مکہ مکرمہ، سکاکا اور نجران کے تین ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے موجود 3 ذہنی طور پرمردہ ہوجانے والے مریضوں کے اعضا کو 14 دیگر مریضوں کو منتقل کرنے کا سنگ میل کامیابی سے عبور کرلیا۔ ان اعضا کو ریکارڈ مدت میں نکال کر دیگر پیوند کاری کے محتاج مریضوں کو لگایا گیا۔

مکہ المکرمہ میں کنگ عبداللہ میڈیکل سٹی میں طبی عملہ نے دماغی مردہ شخص کے لواحقین سے اعضا عطیہ کرنے پر آمادگی حاصل کرلی تاکہ ان اعضا کو دیگر محتاج مریضوں میں منتقل کیا جاسکے۔

اس ایک مریض کے عطیہ سے 5 مریضوں نے فائدہ اٹھایا۔ ایک دس سالہ لڑکی کو دل لگایا گیا۔ اس لڑکی کی حالت بہت نازک دی۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن کے بعد لڑکی کی جان بچ گئی۔ دوسری 14 سالہ لڑکی کا دایاں گردہ ناکارہ ہوگیا تھا۔ یہ لڑکی 7 سال سے گردہ ملنے کے انتظار میں تھے۔

تیسرے ایک 38 سالہ مریض نے بائیں گردہ حاصل کرلیا اور اپنی تکلیف سے راحت پالی۔ چوتھی ایک 59 سالہ خاتون تھی جس کو جگر کی پیوند کاری کی ضرورت تھی۔ پانچویں ایک 23 سالہ خاتون کی حالت پھیپھڑوں کے ناکارہ ہونے سے نازک تھی۔ اس خاتون کو اہم وقت میں پھیپھڑوں کی ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت میسر آگئی۔ اس طرح ایک مریض پانچ افراد کیلئے نئی زندگی کا سبب بن گیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading