رامیشورم: سری لنکا بحریہ نے اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر کے اتوار کو سات ہندوستانی ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا اور ان کی کشتی بھی ضبط کر لی۔
محکمہ ماہی گیری کے حکام نے بتایا کہ رامیشورم سے روز صبح سات ماہی گیر مچھلی پکڑنے کے لئے سمندر میں اترے تھے۔ وہ جب بین الاقوامی سمندری سرحد کے نزدیک مچھلی پکڑ رہے تھے، تب ہی ان کی کشتی میں کچھ خرابی آ گئی اور موسم بھی خراب ہو گیا جس کی وجہ سے ان کی کشتی راستہ بھٹک گئی۔
اسی دوران وہاں گشت کر رہے سری لنکائی بحریہ نے انہیں ان کی حد میں گھسنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ حراست میں لئے گئے ماہی گیروں کو پوچھ گچھ اور مزید کارروائی کے لئے منار لے جایا گیا ہے۔
حراست میں لئے گئے ماہی گیروں کی شناخت جوزف پلراج (37)، نٹو (40)، ناگراج (45)، انناسی (22)، سبھرامنی (35)، منياسامی (48) اور ستيہ شيلن (25) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس ماہ سری لنکائی بحریہ کی طرف سے ہندوستانی ماہی گیروں کو حراست میں لیے جانے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل 24 جولائی کو پڈوكوٹائی ضلع کے چار ماہی گیروں اور 12 جولائی کو رام ناتھ پورم ضلع کے چھ ماہی گیروں كو سری لنکائی بحریہ نے حراست میں لیا تھا۔ دونوں واقعات میں ایک کشتی کو بھی ضبط کیا گیا تھا۔ اس دوران رامناتھ پورم کے رکن پارلیمنٹ کے نواز کنی نے وزیر خارجہ ایس جے شنكر سے ماہی گیروں کی جلد رہائی اور ان کی کشتیوں کو چھڑانے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے جے شنكر سے سری لنکا کے وزیر خارجہ سے بات چیت کر کے ماہی گیری کے حقوق سے متعلق مسائل کو حل کرنے اور تمل ناڈو کے ماہی گیروں کے روزگار کو تحفظ دینے کی درخواست کی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
