نئی دہلی: سابق وزیر خزانہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کا سنیچر کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال پر ملک کی اہم شخصیات کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جیٹلی کی اہلیہ اور بیٹے سے بات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق دونوں نے وزیر اعظم مودی سے اپنا بیرون ملک کا دورہ منسوخ نہ کرنے کو کہا ہے۔ وزیر اعظم نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’ارون جیٹلی ایک سیاسی قدآور اور قانون کے معلم تھے۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے ہندوستان کی ترقی میں تعاون کیا۔‘‘
Arun Jaitley Ji was a political giant, towering intellectual and legal luminary. He was an articulate leader who made a lasting contribution to India. His passing away is very saddening. Spoke to his wife Sangeeta Ji as well as son Rohan, and expressed condolences. Om Shanti.
— Narendra Modi (@narendramodi) August 24, 2019
ارون جیٹلی کے انتقال کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنا حیدراباد کا دورہ مختصر کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’ارون جیٹلی کے انتقال سے انتہائی دکھی ہوں۔ جیٹلی جی کا جانا میرے لئے ذاتی خسارہ ہے۔ ان کے روپ میں میں نے نہ صرف تنظیم کا ایک اعلیٰ رہنما کھویا ہے بلکہ خاندان کا ایک ایسا اٹوٹ رکن بھی کھو دیا ہے جس کی قربت اور رہنمائی مجھے برسوں تک حاصل ہوتی رہی۔‘‘
अरुण जेटली जी के निधन से अत्यंत दुःखी हूँ, जेटली जी का जाना मेरे लिये एक व्यक्तिगत क्षति है।
उनके रूप में मैंने न सिर्फ संगठन का एक वरिष्ठ नेता खोया है बल्कि परिवार का एक ऐसा अभिन्न सदस्य भी खोया है जिनका साथ और मार्गदर्शन मुझे वर्षो तक प्राप्त होता रहा।
— Amit Shah (@AmitShah) August 24, 2019
کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر ششی تھرور نے ٹوئٹ کر کے جیٹلی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’اپنے دوست اور دہلی یونیورسٹی کے سینئر طالب علم کے انتقال پر بے حد دکھی ہوں۔ ہماری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ دہلی یونیورسٹی طلبا یونین میں تھے اور میں سینٹ اسٹیفن کالج یونین کا سربراہ تھا۔ سیاسی اختلافات ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے اور اکثر بحث کرتے تھے۔ ‘‘
We are deeply saddened to hear the passing of Shri Arun Jaitley. Our condolences to his family. Our thoughts and prayers are with them in this time of grief. pic.twitter.com/7Tk5pf9edw
— Congress (@INCIndia) August 24, 2019
کانگریس پارٹی کی طرف سے بھی ارون جیٹلی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ کانگریس کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا، ’’ارون جیٹلی کے انتقال کی خبر افسوس ناک ہے۔ ہماری تعزیت ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے اور غم کے اس وقت میں ہم ان کے لئے دعا گو ہیں۔
Deeply saddened by the tragic passing of my friend&DelhiUniv senior @arunjaitley. We first met when he was at DUSU& I was President of StStephen’sCollegeUnion. Despite political differences we enjoyed a healthy mutual respect&debated his Budget often in LS. A great loss4India pic.twitter.com/RzxO1V6NTV
— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) August 24, 2019
واضح رہے کہ ارون جیٹلی کے اہل خانہ میں ان کی بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ وہ 9 اگست سے ایمس میں داخل تھے۔ ان کی پیدائش 1952 میں دہلی میں ہوئی تھی اور 1974 میں انہوں نے سیاست کی شروعات کی تھی۔
واجپئی حکومت کے دوران انہیں 13 اکتوبر 1999 کو اطلاعات و نشریات کا وزیرمملکت (آزادنہ چارج) مقرر کیا گیا۔ انہیں وزیر مملکت برائے سرمایہ کشی (آزادانہ چارج) بھی مقرر کیا گیا۔ مودی حکومت کی پہلی مدت کار میں وہ وزیر خزانہ بنے تھے۔
جیٹلی 1982 میں جموں وکشمیر کے سابق وزیر خزانہ گردھاری لال ڈوگرہ کی بیٹی سنگیتا کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ گئے تھے۔ جیٹلی کے اہل خانہ میں بیوی، بیٹا روہن اور بیٹی سونالی ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
