روزوں سے متعلق خواتین عورتوں کے مخصوص مسائل (قسط نمبر: 02) تحری ر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی

سیکریٹری: ذکری’ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی،گلری،یوپی

کس طرح کی عورتوں پر رمضان المبارک کے روزے کی قضاء ہے ؟

اولا: قضاء کیا ہے ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ قضاء سے مراد یہ ہے کہ کہ وہ شخص جو کسی وجہ سے رمضان میں روزے نھیں رکھ سکا ،چھوٹے ہوئے روزوں کے بدلے میں رمضان کے علاوہ کسی ایسے دن میں روزہ رکھے جس میں نفلی روزہ رکھنا مباح ہو ۔
(فقہ السنہ,302)

ایسی عورتیں جن پر روزے کی قضاء لازم ہے ،وہ یہ ہیں :

١-(حائضہ) –
ایسی عورت کے لیے روزہ رکھنا منع ہے ان پر قضاء لازم ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ :

"عن معاذة بنت عبدالله العدويَّة قالت: سألتُ عائشة رضي الله عنها فقلتُ: ما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة؟ قالت: كان يُصِيبنا ذلك، فنُؤمَر بقضاء الصوم، ولا نؤمر بقضاء الصلاة؛ .(اخرجہ ابوداؤد ،کتاب الطھارۃ ،باب فی الحائض لا تقضی الصلاۃ (263) وصحہ الالبانی رحمہ اللہ

معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے عرض کیا یہ کیا بات ہے کہ ایک حائضہ عورت ایام ماہواری میں جو روزے چھوڑتی ہے ان کی قضا تو وہ ادا کرتی ہے ،لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی ہیں ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم پر یہ حالت گزرتی تھی تو ہمیں یہ حکم تو دیا جاتا تھا کہ ہم روزوں کی قضاء کریں ،لیکن یہ حکم نھیں دیا جاتا تھا کہ نمازوں کی قضا بھی کریں ۔

٢-(نفاس والی عورتیں):-

نفاس والی عورتوں کے لئے روزہ رکھنا منع ہے بعد میں ان پر قضاء لازم ہے۔
(مختصر فقہ اسلامی 692/2)-

٣-٤ (دودھ پلانے والی وحاملہ عورتیں) :-

دودھ پلانے والی عورت دودھ پلانے کے زمانے میں اور حاملہ عورت دوران حمل میں غیر معمولی تکلیف محسوس کرے تو انھیں اس کی اجازت ہے کہ وہ روزہ چھوڑ دیں ،یہ دور گزر جانے پر بعد میں انھیں ان روزوں کی قضاء ادا کرنی ہوگی –
قضاء میں جتنی جلد بازی سے کام لیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا ۔
اگر اگلے رمضان شروع ہونے میں اتنے ہی دن باقی رہ گئے ہوں جتنے دن اس نے روزہ ترک کیا ہے تو پچھلے رمضان المبارک کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء واجب ہو جاتی ہے ،اسے لازمی طور پر چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کرلینی چاہئے ۔(خواتین کے مخصوص مسائل ص:111)

دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کے بارے میں حدیث میں ہے کہ "عن أنسِ بن مالكٍ الكعبيِّ رَضِيَ اللهُ عنه، قال: قال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: ((إنَّ اللهَ تبارك وتعالى وضَع عن المُسافِر شَطرَ الصَّلاةِ، وعن الحامِلِ والمرضِعِ الصَّومَ أو الصِّيامَ"
(أخرجه النسائي،کتاب الصوم ،باب وضع الصیام عن الحبلى والمرضع،الحديث : 2317)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز ساقط کردی ہے اور ان سے روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی دے دی ہے ،اسی طرح دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،اسی طرح قصدا کھانے پینے اور قصداً قۓ کرنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اور اس کی قضاء واجب ہوجاتی ہے۔
البتہ خود بخود قۓ ہوجائے تو روزہ کی نہ قضاء کرے اور نہ کوئی کفارہ ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ – أي : غلبه- فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ) . رواه الترمذي و صححه الألباني في صحيح الترمذي . (720) و أبوداود ،كتاب الصيام،باب الصائم يستقئ عامدا:238)۔

جس کو قۓ آجاتی ہے اس پر قضاء واجب نہیں اور جو شخص قصداً قۓ کرے وہ قضاء کرے ۔

آدمی کا قصداً منی خارج کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے خواہ یہ عمل بیوی کا بوسہ دینے سے ہو یا اس کو بھیچنے سے ہو یا ہاتھ سے ہو ۔
ان تمام فعل سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ،اور قضاء واجب ہوتی ہے،البتہ شھوت بھری نظروں سے دیکھنے یا اس بارے میں سوچنے سے منی خارج ہو تو اس کی مثال دن میں احتلام کی ہے اس سے نہ روزہ باطل ہوگا اور نہ قضا واجب ہوگی ،

کسی روزہ دار نے یہ سوچ کر کوئی چیز کھالی یا پی لی یا جماع کرلیا کہ سورج غروب ہوچکا ہے یا ابھی صبح نھیں ہوئی ہے ،لیکن اس کا گمان غلط ثابت ہوا ہو تو اس پر قضاء واجب ہوگی ،جمھور علماء کرام کا یہی مسلک ہے۔

اگر کوئی شخص بھول کر کھا پی لے تو روزہ نھیں ٹوٹتا ہے اور نہ اس پر کوئی کفارہ ہے اور نہ کوئی قضاء ،
کیونکہ اس کا روزہ برقرار ہے جمھور اسی کے قائل ہیں۔
(سبل السلام ,137/4)۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"

((مَن نسِي وهو صائم فأكَل أو شرِب، فليُتِمَّ صومه؛ فإنما أطعَمه الله وسقاه))
(رواہ البخاری،کتاب الصوم،باب الصائم اذا اکل او شرب ناسیا حدیث نمبر:1933)

جو روزہ دار بھول کر اگر کھاپی لے تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے ،کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔

اور ایک روایت میں ہے کہ " من أفطر فی رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة"
(صحيح ابن خزيمة ،كتاب الصيام ،حديث نمبر :239)

اگر بھول کر کوئی رمضان میں روزہ کھولے تو اس پر قضاء اور کفارہ نہیں ہے۔

رمضان المبارک میں کن چیزوں کی وجہ سے قضاء اور کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔؟؟

جس عمل سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اور قضاء و کفارہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں وہ جماع ہم بستری ہے ۔جمھور کا یہی مسلک ہے۔
چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ ، " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ " ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " ، قَالَ : أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ، " فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ "
(صحيح مسلم،كتاب الصيام،باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان ،1877 و أبوداود ،كتاب الصوم ،باب كفارة من أتي أهله في رمضان،239)

ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،میں برباد ہوگیا ،
آپ نے فرمایا : کس نے تمہیں برباد کیا ؟
اس نے کہا میں نے رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرلیا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم ایک غلام آزاد کرسکتے ہو ؟اس نے کہا: نھیں ,
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،کیا تم دو ماہ متواتر روزہ رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا:نھیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ساٹھ غریب کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر وہ کچھ دیر بیٹھا رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کھجوریں لائی گئیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ،لو اور انھیں صدقہ کردو ،اس شخص نے کہا ،کیا یہ صدقہ کسی ایسے شخص کو کرنا چاہیے جو ہم سے زیادہ محتاج ہو ؟
تو مدینے کے گردونواح میں ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھر نہیں ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر یوں ہنس پڑے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آگئے ،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جاؤ اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ ۔

کیا مرد اورعورت دونوں پر جماع کی صورت میں کفارہ ہوگا؟؟

جمہور کا مذہب اس مسئلے میں یہی ہے کہ عورت و مرد کفارہ کے وجوب میں برابر کے شریک ہیں ،جب کہ ان دونوں نے قصداً اپنی مرضی سے رمضان کے دنوں میں جماع کیا ،اور روزہ رکھنے کی ان کی نیت تھی لیکن اگر بھول کر ان سے جماع ہوگیا ہو یا ان کی مرضی کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ ان کو مجبور کیا گیاتھا یا روزہ رکھنے کی نیت نھیں تھی تو عورت اور مرد میں سے کسی پر کفارۃ واجب نہیں، اور اگر عورت کو مرد کی طرف سے مجبور کیا گیا ہو یا عورت کسی عذر کے باعث روزے سے نھیں تھی تو کفارہ صرف مرد پر ہوگا ۔
(فقہ السنہ 186/2) ۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
صحیح مسئلہ یہ ہے کہ صرف ایک کفارہ واجب ہے وہ بھی مرد کی طرف سے ،عورت پر کوئی کفارہ نہیں ،عورت پر وجوب کا حکم لاگو نھیں ہوگا کیونکہ کفارہ کے وجوب کے معانی یہ ہے کہ مال کا وہ حق ادا کیا جائے جو جماع سے واجب ہو لھذا یہ حق مرد کے ساتھ ہوگا نہ کہ عورت کے ساتھ ۔
(المجموع, 293/6)

عورت پر کفارہ واجب نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں جماع کرنے والے کو غلام آزاد کرنے کا حکم دیا اور عورت کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی جب کہ آپ کو معلوم تھا کہ اس فعل میں عورت بھی شریک ہے ۔
(المغنی لابن قدامہ 375/4)۔

اگر کسی نے کفارہ ادا کرنے کے بعد بھی جماع کرلیا تو کیا کرے؟؟

علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی نے رمضان میں قصداً جماع کرلیا اور کفارہ بھی ادا کردیا پھر دوسرے دن یہی حرکت سرزد ہوگئی تو دوبارہ کفارہ واجب ہوگا ،نیز اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ایک دن میں متعدد بار جماع کرے تو اس پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا ۔

البتہ کسی نے ایک بار جماع کیا اور کفارہ ادا کردیا پھر دوبارہ جماع کیا تو کیا دوبارہ کفارہ ادا کرے گا؟

جمہور کے نزدیک دوبارہ ادا نہیں کرے گا لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے قول کے مطابق دوبارہ ادا کرے گا۔
(فقہ السنہ 189/2)

امام شافعی رحمہ اللہ اور اکثر علماء کے نزدیک قضاء لازم نہیں ۔
اور امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا : کہ اگر کفارے میں دو مہینے کے روزے رکھے تب قضاء لازم نہیں،دوسرا کوئی کفارہ دے تو قضاء لازم آئے گا،
اور حنفیہ کے نزدیک ہر حال میں قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہے ۔

(صحیح بخاری شرح مولانا داود راز رحمہ اللہ,196/3)۔

کفارہ کی ترتیب :

رمضان المبارک کے دنوں میں جماع کے کفارے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ ایک گردن آزاد کرنا ،اگر اس کی طاقت نھیں تو دو ماہ کے پے درپے روزے رکھنا اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلانا،
لیکن اس کفارے کی ترتیب میں علماء کا اختلاف ہے ۔

جمہور کے نزدیک کفارہ کی ادائیگی کی جو ترتیب حدیث میں وارد ہوئی ہے اسی کے مطابق کفارہ ادا کرنا ہوگا ،جب تک ایک صنف سے عاجز نہ ہو دوسرے صنف ادا نہیں کرسکتا ،

امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ کفارہ دینے والے کو ان تینوں میں اختیار ہوگا کوئی ایک صنف بھی (تینوں میں سے کوئی ایک صورت) ادا کردے تو کافی ہے۔
(فقہ السنہ 188/2)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading