رمضان المبارک کے روزوں سے متعلق عورتوں کے مخصوص مسائل (قسط نم بر: 03) تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی

سیکریٹری: ذکری’ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی،گلری،یوپی

اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر بے شمار احسانات کرکے انھیں ایسی مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے جو کسی اور کے اندر نھیں پائ جاتیں نیز ان کی صلاحیت اور جسمانی طاقت کے مطابق ان کے اوپر احکام واجب کیا ہے ۔
آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کو فائدہ پہونچانے کے لیے اس مسئلے پر ہم نے تفصیلی احکام کا تذکرہ کیا اور اللہ تعالی کی توفیق سے بآسانی تیسری قسط بھی مکمل ہوئی ۔فللہ الحمد والمنۃ

امید ہے کہ یہ موضوع ان عورتوں کے لیے نشان راہ ثابت ہو اور ان کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو ۔

معذور عورتیں جو روزہ نہ رکھ سکیں ان کے لیے فدیہ کی مقدار :

جب ماہ رمضان شروع ہوجائے تو ہر بالغ،تندرست،صحیح و سالم مقیم مسلمان مرد و عورت پر اس کے روزے رکھنا فرض ہے ۔مرداور عورت میں جو بیمار ہوں یا ماہ رمضان کے درمیان مسافر ہوں تو وہ صوم توڑ دیں اور فوت شدہ صوم کی قضا دوسرے دنوں میں کرلیں ۔(البقرہ: 285)
فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من أیام اخر "
اسی طرح مرد وعورت میں سے جسے ماہ رمضان مل جائے اور وہ عمر دراز بوڑھا ہو ،روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یا کسی کو ایسی بیماری لاحق ہو جس سے کبھی بھی شفا یابی کی امید نہ ہو چاہے مرد ہو یا عورت تو ایسا شخص صوم توڑ دے گا اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو عام طور پر اس بستی یا شہر کی غذا اور خوراک میں سے آدھا صاع یعنی سوا کلو گرام اور بعض کے نزدیک ڈیڑھ کلو گرام خوراک بطور فدیہ دے گا ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان " وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین " (سورۃ البقرۃ:184)
جو روزے کی طاقت نھیں رکھتے ہیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔

فدیہ سے مراد :

جو شخص رمضان کے جتنے روزے نہ رکھ سکا ہو وہ ان میں سے ہر روزے پر ایک مسکین کو کھانا کھلائے ۔

اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

١- ایک دن میں صبح اور شام دونوں وقت یا صبح کے دو کھانے یا شام کے دو کھانے یا افطار وسحر کے وقت کسی مسکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے۔

٢- یا کسی فقیر کو سوا کلو گیہوں یا اناج دے دے (بعض کے نزدیک نصف صاع ڈیڑھ کلو گرام ہوتا ہے )یا اس کی قیمت دے دے ۔

٣- یا کسی مسکین کو جو یا کھجور یا کشمش کا ایک صاع دے دے ۔

مالکیہ کے نزدیک کسی مسکین کو کھانے کے ایک مد ( سوا چھ سو گرام) کا مالک بنا دیا جائے۔جو عام طور پر فدیہ دینے والے شہر میں کھایا جاتا ہے جیسے گیہوں وغیرہ یا جس چیز کا زیادہ رواج ہو ۔
شافعی مسلک کے مطابق فدیہ کی مقدار ایک مد ہے اور مد نصف مصری پیالہ کے برابر ہوتا ہے۔
حنابلہ کے نزدیک روزے کے فدیے میں مسکین کو ایک مد گندم یا نصف صاع کھجور یا جو یا کشمش یا پنیر دیے جاسکتے ہیں،اور صاع حنابلہ کے نزدیک مصری پیمانہ کے حساب سے دو پیالہ کے برابر ہے۔

مگر اس سلسلے میں احناف کی رائے زیادہ بہتر ہے اور دور حاضر میں زیادہ قابل عمل ہے اور آج کل اسی کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے۔
(فقہ السنہ،ص:304)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آیت کریمہ اس عمر دراز سن رسیدہ کے لیے ہے جس کی شفایابی کی امید نہ ہو ۔
اور وہ مریض جس کی بیماری کی وجہ سے شفا پانے کی بالکل امید نہ ہو وہ بوڑھے کے حکم میں ہیں ان پر قضا نہیں کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔

عورتوں کے لیے رمضان المبارک کے روزوں کی قضا میں تاخیر کا حکم:

قضاء رمضان کا پورا کرنا تاخیر کے ساتھ جائز ہے یعنی یہ واجب نہیں کہ شوال کے شروع ہی میں اسے پورا کرے بلکہ پورے سال میں جب چاہے ادا کرے ،
امام ابوحنیفہ،امام مالک ،امام شافعی،امام احمد رحمہم اللہ اور جمہور سلف وخلف کا مذہب یہ ہے کہ شعبان کے بعد تاخیر کرنا درست نہیں ،اس لیے کہ اس کے بعد رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس میں قضاء نھیں ہوسکتی اور داؤد ظاہری کا مذہب ہے کہ عید کے دوسرے دن سے ہی قضاء کے روزے رکھنے ضروری ہیں ان کا یہ قول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے خلاف ہے۔
عن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قالت : ( كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلا فِي شَعْبَانَ ، وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) .

قال يحيى بن سعيد تعني الشغل من النبي أو بالنبي صلى الله عليه وسلم
(رواہ البخاری،کتاب الصوم،باب متى’ یقضی قضاء رمضان:1950،صحیح مسلم کتاب الصیام ،باب قضاء رمضان فی شعبان :1146)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ رمضان المبارک کے کچھ روزے ہوتے تھے مگر میں شعبان کےسوا اور کسی مہینے میں قضاء کے یہ روزے نہ رکھ پاتی تھی ،
اس حدیث کے ایک راوی یحییٰ بن سعید حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے شعبان سے پہلے یہ روزے نہ رکھ سکتی تھیں ۔

امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مطلقاً رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء تاخیر سے دینے کا جواز ہے۔
(نیل الاوطار :211/3)

علامہ البانی رحمہ اللہ کا اس سلسلے میں یہ قول ہے کہ حق بات یہ ہے کہ اگر استطاعت ہو تو جلدی قضاء دینا واجب ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا" وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم"اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو ۔
(تمام المنۃ ،ص:421)

احناف اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی نے رمضان کی قضاء اتنا مؤخر کردی کہ دوسرا رمضان آگیا تو اس رمضان کا روزہ رکھنے کے بعد گزشتہ رمضان کی قضاء کرے گا اور کفارہ دینا اس پر واجب نہیں ہوگا گرچہ یہ تاخیر کسی عذر کے سبب ہو یا بغیر کسی عذر کے ہو۔
لیکن امام مالک ،امام شافعی،امام احمد اور امام اسحاق بن راھویہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر بغیر کسی عذر کے سبب تاخیر ہوئی تو قضاء اور کفارہ دونوں واجب ہے۔

(بدایۃ المجتہد,ص:25)

اگر کسی شخص کے ذمہ رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء تھی لیکن اگلا رمضان المبارک آنے سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں،
اگر وہ رمضان جدید کے بعد فوت ہوگیا تو اگر قضاء کی تاخیر کا سبب کوئی شرعی عذر تھا تو اس کے ذمہ بھی کوئی روزہ نہیں اور بغیر عذر کے رمضان جدید آگیا تو اس کے ترکہ سے ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کا کھانا بطور کفارہ لازم ہے۔
اگر کوئی شخص مرگیا اور اس کے ذمہ کسی کفارے کے روزے تھے ۔
مثلاً ظہار کے گمان کے مطابق روزے رکھ لینا چاہیے،
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ"
لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا" (سورۃ البقرۃ:286)
اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
فتاویٰ برائے خواتین ص:142)۔

عورتوں کا رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء سے پہلے نفلی روزوں کا حکم:

رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء اگر عورت پر ہے تو پہلے روزوں کی قضاء کرے گی،قضاء کے بغیر نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں واللہ اعلم۔

شوہر کی موجودگی میں شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزے کا حکم:

شوہر کی موجودگی میں شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزے رکھے یہ اس کے لیے حلال نھیں ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" لا يحل لإمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه ولا تأذن فى بيته إلا بإذنه "
( رواه البخاري،كتاب النكاح ،باب لا تأذن المرأة في بيت زوجها لاحد إلا بإذنه"

کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ جن دنوں میں اس کا شوہر اس کے پاس ہو اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے اور کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں کسی کو آنے کی اجازت دے ۔
امام احمد اور ابوداود کی بعض روایات میں " الا رمضان " ہے یعنی رمضان کے علاوہ اور ابوداود کی بعض روایات میں "غیر رمضان" کے الفاظ ہیں ،یعنی رمضان المبارک کے سوا دوسرے دنوں میں خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے ۔
علماء نے اس مخالفت کو حرمت پر محمول کیا ہے ۔یعنی روزہ رکھنا ایسی صورت میں حرام ہے اور خاوند کو اختیار دیا ہے کہ اگر عورت اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے تو وہ اس روزے کو تڑوا سکتا ہے ،کیونکہ عورت نے اس کے حق میں دست درازی کی ہے لیکن یہ رمضان کے علاوہ نفلی روزے کے بارے میں ہے جیسا کہ خود حدیث میں مذکور ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کے سلسلے میں خاوند کی اجازت ضروری نہیں ہے ہاں اگر کسی عورت کا شوہر گھر سے دور ہو تو روزہ رکھ سکتی ہے لیکن اس دوران شوہر آجائے تو وہ روزہ خراب کرسکتا ہے۔
یا اگر عورت کا شوہر نفلی روزے رکھنے کی اجازت دے دے یا شوہر موجود نہ ہو یا سرے سے شوہر ہی نہ ہو تو اس کا نفلی صوم رکھنا مستحب اور پسندیدہ ہے خاص کر ان ایام میں جن ایام میں صوم رکھنا مستحب ہے جیسے ہر سوموار ،جمعرات،اور ہر مہینہ میں تین دن (ایام بیض 15,14,13) شوال کے چھ روزے،ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ،عرفہ کے دن ۔نو اور دس محرم۔
البتہ اگر اس پر رمضان کے صوم کی قضا باقی ہے تو بغیر قضا صوم پورا کیے نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں واللہ اعلم
(تنبیہات علی احکام تختص بالمومنات ،ص: 67)

علماء نے خاوند کی بیماری اور جماع پر قادر نہ ہونے کو بھی خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنے کے سلسلے میں خاوند کی غیر حاضری کے مانند قرار دیا ہے۔
یعنی ان صورتوں میں بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھ سکتی ہے ۔
(فقہ السنہ,449/1)

"الفقہ علی المذاھب الاربعہ" میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر یا یہ جانے بغیر کہ خاوند میرے روزے رکھنے کو ناپسند کرتا ہے یا نہیں نفلی روزہ رکھنا حرام روزوں کی قسموں میں شامل ہے ہاں البتہ اگر خاوند کو عورت کی حاجت نہ ہو ،مثلا کہ وہ گھر سے غیر حاضر ہو یا احرام کی حالت میں ہو یا اعتکاف میں ہو تو پھر بغیر اجازت کے نفلی روزے رکھنا عورت کے لیے حرام نہیں ہے۔
احناف کے نزدیک عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا مکروہ ہے،
حنابلہ کے نزدیک جن دنوں خاوند گھر موجود ہو یعنی سفر پر گیا ہوا نہ ہو عورت کے لیے اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا ناجائز ہے خواہ کسی رکاوٹ کی وجہ سے خاوند جماع نہ کرسکتا ہو ،مثلا شوہر حالت احرام میں ہو یا حالت اعتکاف میں ہو یا بیمار ہو وغیرہ ‌۔
(فقہ النساء ،ص:276)

نفلی روزے کی نیت :

فرض روزہ رکھنے والے پر فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے جیسا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له"
(رواه أبو داود،كتاب الصوم،باب النية في الصيام،حديث :2143)

جس نے فجر یعنی صبح صادق سے پہلے پختہ نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ۔
مگر نفلی روزوں کے لیے ایسا بالکل نہیں نفلی روزے کے لیے زوال سے پہلے نیت کی جاسکتی ہے۔
صحیح مسلم میں یہ حدیث ہے "عَنْ عَائِشَةَ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فَيَقُولُ : " أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ ؟ " فَأَقُولُ : لا . قَالَتْ : فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " . قَالَتْ : فَأَتَانِي يَوْمًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ ، قَالَ : " وَمَا هِيَ ؟ " قُلْتُ : حَيْسٌ ، قَالَ : " أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ صَائِمًا " ، قَالَتْ : ثُمَّ أَكَلَ .
(رواه مسلم ،كتاب الصيام ،باب جواز صوم النافلة بنية من النهار قبل الزوال ،حديث:1154)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟
ہم نے کہا نہیں ،
یہ سن کر آپ نے فرمایا تب میں روزہ دار ہوں ،پھر آپ ایک دوسرے دن ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے،آپ نے فرمایا وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا حلوہ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر آپ نے اسے کھالیا۔

امام مالک ،امام شافعی،امام احمد رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ فرض روزے کے لیے رات کو نیت کرنا ضروری ہے جب کہ نفلی روزے کی نیت زوال سے پہلے تک کیا جاسکتا ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول یہ بھی ہے کہ نصف النہار سے پہلے پہل فرض اور نفل دونوں قسم کے روزوں کی نیت کی جاسکتی ہے،تاہم قضا اور کفارہ میں رات کو نیت کرنا ضروری نہیں ہے ۔
(المغنی لابن قدامہ 333/4)

پہلا موقف راجح ہے کہ فرض روزے کے لیے رات کو نیت کرنا ضروری ہے ،جب کہ نفلی روزے کی نیت زوال سے پہلے تک کی جاسکتی ہے۔اور ہر روزہ کے لیے الگ نیت کرنا ضروری ہے،کیونکہ روزہ عبادت ہے اور ہر مرتبہ ابتداء عبادت سے اس کی دوبارہ نیت کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی عبادت نیت کے بغیر نہیں ہوتی ہے۔
امام شافعی،اما‌م ابوحنیفہ اور امام ابن منذر رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔
اما‌م احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ پورے مہینے کے لیے ایک نیت بھی کی جاسکتی ہے۔
امام شوکانی رحمہ اللہ اور امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کے بقول ہر دن کے لئے الگ نیت کرنی چاہئے ۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ کے بقول : رمضان المبارک اور غیر رمضان المبارک کے روزوں کے لیے ہر رات نئی نیت کرنی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ نیت محض دل کے ارادے کا نام ہے ،لھذا روزے کی نیت کے لیے زبان سے کوئی الفاظ نہیں ادا کیے جائیں گے،جیسا کہ بعض لوگوں کے یہاں یہ الفاظ بتائے جاتے ہیں " وبصوم غد نويت من شهر رمضان" یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔
(فقہ الحدیث,718/1)
اسی طرح نفلی روزوے کو انسان جب چاہے چاہے چھوڑ بھی سکتا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں دینی علم وبصیرت دےاور اپنی ذمہ داری کو بحسن وخوبی انجام دے کر اسے اپنی قربت کا ذریعہ بنا اور رمضان کے برکات وحسنات سے ہم سب کا دامن بھر دے اور اس ماہ مبارک کو ہماری مغفرت و نجات کا ذریعہ بنادے اور تمام خواتین کو کتاب وسنت کے مطابق مسائل کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا اور ہمارے علم وعمل میں اضافہ فرما اور ہمیں تاحیات صحت وعافیت اور اخلاص کے ساتھ خدمت دین کی توفیق بخشے ،آمین ۔

afrozgulri
Follow us on Whatsapp:
7379499848
01/05/2020
12:45 am

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading