ممبئی: ممبئی کانگریس کے نائب صدر ذاکر احمد نے آج یہاں وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے سے درخواست کی ہے کہ آئندہ ہفتہ سے شروع ہونے والے رمضان المبارک کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے دوران خریدوفروخت کے اوقات میں تبدیلی کی جائے، اس کے علاوہ ریاستی حکومت اور بی ایم سی کی جانب سے دستیاب کرائے جانے والے کھانے کی فراہمی کو بھی نئے اوقات یعنی سحر اور افطارمیں کئے جانے کو یقینی بنا یا جائے۔
واضح رہے کہ ممبئی کانگریس کے نائب صدرذاکر احمدنے وزیراعلیٰ کے نام روانہ کئے گئے اپنے ایک مکتوب میں کہاہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کاآغاز25-26،اپریل سے ہونے جارہاہے نیز ملک اورریاست میں جاری لاک ڈاؤن کے سبب صبح کے ابتدائی اوقات میں گیارہ بجے سے قبل خریدوفروخت کیلئے رعایت دی جاتی ہے، لہذا شہر وریاست کے مسلم گنجان آبادی والے علاقے یامخصوص علاقوں میں خریداری کے اوقات میں تبدیلی کی جائے تاکہ روزہ دارافطاراورسحر کاانتظام کرسکیں۔انھوں نے مزید کہاکہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی جھونپڑپٹیوں میں قیام پذیرہے اوروہ تمام سرکاری راشن یاپھرحکومت کی جانب سے ایک اسکیم کےتحت فراہم کردہ کھانے سے اپناگذارہ کرتے ہیں۔ اور بی ایم سی بھی کھانا اور اجناس تقسیم کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میںکھانے کی تقسیم حکومت اور بی ایم سی کے ذریعے جانے دوپہرایک بجے سے تین بجے تک اور شام میں ہوتی ہے۔ذاکراحمد نے مشورہ دیاہے کہ لہذا حکومت اس ضمن میں علماکرام،مسلم لیڈران اور غیرسرکاری تنظیموں کے سربراہان سے بات چیت کرکے اس کی تقسیم کے اوقات میں تبدیلی کرے اور شیو بھوجن اور بی ایم سی مسلم علاقوں میں کھانے کی افطار اور سحری میں دستیاب کرایا جائے۔
ذاکراحمد نے اپنے مکتوب میں مزید لکھاہے کہ دوران رمضان غذائی اجناس اور پھلوں کی دستیابی کویقینی بنایاجائے ساتھ ہی ساتھ ریاستی حکومت ممبئی میونسپل کارپوریشن کویہ ہدایت جاری کرے کہ وہ چند مخصوص علاقوں میں چند ہوٹلوں کی خدمات حاصل کرے اور انھیں راشن دستیاب کرکے دوران رمضان سحر وافطار کے موقعہ پر مسلمانوں کو کھانا دستیاب کرائے اور اس دوران میونسپل کارپوریشن اس کی مکمل نگرانی بھی کرے۔