پورنا:7مئی ( ورقِ تازہ نیوز) رشوت قبول کرتے ہوئے ملزم کو گرفتارکرنے کے بعد اُس کا تعاون کرنا ایک شخص کو کافی مہنگا ثابت ہوا۔ رشوت خور کا ساتھ دینے کے الزام میں کرن باپو راﺅ شندے ( 48 سال) کو نانل پیٹھ پولیس نے حراست میں لے کر عدالت کے روبرو پیش کیا۔ عدالت نے اُس شخص کو 14 یوم کی عدالتی تحویل میں روانہ کرنے کا حکم دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایک شخص نے اپنے لڑکے کو پہلی جماعت میں آر ٹی ای کے تحت داخلہ دلوانے کے لیے آن لائن درخواست داخل کی تھی۔ داخلہ کے لیے منظوری دینے کے لیے آر ٹی ای کا کام دیکھنے والے کلرک انبھورے نے 30 ہزار روپئے کی رشوت طلب کی۔ یہ رشوت قبول کرنے کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
تاہم اسی معاملہ کی تحقیقات کے دوران کرن باپو راﺅ شندے نامی شخص کو متعلقہ طالب علم کے والدین کو رشوت دینے کے لیے اُکسانے کے الزام میں نانل پیٹھ پولیس نے حراست میں لے لیا۔ دریں اثناءشندے کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے اُسے 14 یوم کی عدالتی تحویل میں روانہ کرنے کا حکم دیا۔
اینٹی کرپشن بیورو کے پولیس انسپکٹر ڈاکٹر راج کمار شندے کی رہنمائی میٰں پولیس سب انسپکٹر کرن بڑوے، انسپکٹر سدانند واگھمارے، انسپکٹر بسویشور جکی کورے، نل پتریوار، جناردھن کدم، اتول کدم، محمد جبرئیل، ناگرگوجے، گھگے، چاٹے نے اس کارروای میں حصہ لیا۔