راجستھان میں گوشالاؤں کے لیے 653.65 کروڑ روپے کے فنڈ کو منظوری

راجستھان حکومت نے آنے والی مالی سال کے بجٹ میں گایوں کے لیے بھی خوب انتظام کیا ہے۔ حکومت نے گوشالاؤں کے لیے 653.65 کروڑ روپے کے فنڈ کو منظوری دی ہے۔ مویشی پالن اور ڈیری کے وزیر جورا رام کماوت نے اطلاع دی ہے کہ مالی سال 2024-25 میں 22 جولائی تک 2,843 گوشالاؤں کے لیے 653.65 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔

اسی کے ساتھ انہوں نے اس بات کی بھی اطلاع دی ہے ریاست میں اب گایوں کے لیے ’آوارہ‘ یا بے ’سہارا‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا، ان کی جگہ پر اب ’بے آسرا‘ استعمال کرنا ہوگا۔

اس ضمن میں مویشی پالن و ڈیری کے جورا رام کماوت نے کہا ہے کہ راجستھان میں گایوں کے لیے اب ‘آوارہ’ و ’ بے سہارا‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ بدھ (24 جولائی) کو راجستھان اسمبلی میں مویشی پالن و ماہی گیری کی گرانٹ کے مطالبے پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر جورا رام کماوت نے کہا کہ اب سے آوارہ گایوں کے لیے ’بے آسرا‘ کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔

خبروں کے مطابق مویشی پالن کے وزیر نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت مویشیوں پالن کی ترقی اور مویشیوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے مویشی پالنے والوں کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے پابند عہد ہے۔ ریاستی حکومت گائے اور بیلوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے بھی حساس طریقے سے کام کرے گی۔ ایوان میں بحث کے بعد اسمبلی نے مویشیوں کے محکمہ کی گرانٹس کے مطالبات کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔

مویشی پالن کے وزیر جورا رام کماوت نے کہا کہ ریاست میں چیف منسٹر اینیمل ہسبنڈری ڈیولپمنٹ فنڈ 250 کروڑ روپے کی فراہمی کے ساتھ تشکیل دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ’مکھیہ منتری منگلا پشو بیمہ یوجنا‘ کے تحت دودھ دینے والے جانوروں کے ساتھ دوسرے جانوروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے اسمبلی میں کہا کہ مویشی پالنے والوں کی سہولت کے لیے مرحلہ وار تمام اضلاع میں مویشی میلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading