راجاپکسا سری لنکا کے نئے صدر منتخب ،رائے شماری کے پہلے مرحلے سے ہی سبقت

راجاپکسا سری لنکا کے نئے صدر منتخب ،رائے شماری کے پہلے مرحلے سے ہی سبقت

کولمبو /17 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سری لنکا کے متنازعہ وزیر دفاع پریماداسا اپنے حریف راجاپکسا کے مقابلہ میں صدارتی انتخابات میں ناکام رہے جو اتوار کے دن دہشت گرد حملوں کے بعد منعقد ہوا تھا ۔ جس میں 269 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ 70 سالہ راجاپکسا صدر سری لنکا ، سری سینا کے جانشین ہوں گے ۔ راجاپکسا نے سری لنکا کے تعلقات چینی اعلی سطحی قیادت سے مستحکم کرنے کا عہد کیا ہے ۔ وہ صدارتی انتخابات میں اپنے حریف کو شکست دینے میں کامیاب رہے ۔ جنہوں نے انتخابات نتائج کے اعلان سے پہلے ہی ڈپٹی لیڈر برسر اقتدار یونائٹیڈ نیشنل پارٹی کے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوامی فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور نئے صدر پر اپنے اعتماد کا اعادہ کرتے ہیں ۔ انہیں امید ہے کہ وہ میرے پورے سیاسی کیریر میں میرے لئے سرچشمہ طاقت ثابت ہوں گے ۔ راجاپکسا آج صبح ابتدائی انتخابی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی اپنے حریف پر باآثانی سبقت حاصل کئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ سری لنکا کیلئے ہم ایک نئے سفر کے آغاز کی خوشخبری لائے ہیں ۔ سری لنکا کے تمام شہری اس سفر میں شریک ہوں گے اور پرامن انداز میں وقار کے ساتھ نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے جشن منائیں گے ۔ جیسے کہ انتخابی مہم چلانے کے دوران انہوں نے کیا تھا ۔ 52 سالہ پریم داس دریں اثناء ہندوستان کی جانب اور امریکہ کی جانب زیادہ جھکاؤ رکھتے تھے ۔ چنانچہ راجاپکسا نے عہد کیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں گے ۔

راجاپکسا توقع ہے کہ صدر سری لنکا کے عہدہ پر اپنی پانچ سالہ معیاد مکمل کریں گے ۔ کیونکہ انہیں 10 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی اکثریت سے اپنے حریف پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ صدارتی انتخابات میں 80 فیصد سے زیادہ رائے دہندوں نے حصہ لیا ۔ وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے جو توقع ہے کہ انتخابی نتیجہ میں بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے ۔ آج دوپہر اپنی معیاد کے آخری اجلاس میں شریک ہوئے ۔ موجودہ پارلیمنٹ کم از کم آئندہ فروری سے پہلے تحلیل کردی جائے گی ۔ وکرما سنگھے کو اُن کے عہدے سے برطرف نہیں کیا جاسکتا ۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں جیسا کہ ان کے بڑے بھائی اور سابق مرد آہن مہندا نے اپنے عہدے سے استعفی پیش کیا تھا ۔ پریما داسا کو غریب حامی قائد سمجھا جاتا ہے اور وہ بدھست اکثریت کے پسندیدہ شخص ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے ایل ٹی ٹی کے خلاف فوجی کارروائی کی قیادت کی تھی ۔ راجا پکسا کی فتح سے ان کے خاندان کی اقتدار پر واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ جبکہ سابقہ صدر کو انتخابات کے بعد ان کے عہدے سے معذول کردیا گیا تھا ۔

Read More

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading