دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو دواؤں کی آن لائن فروخت پر پالیسی بنانے کا دیا حکم

نئی دہلی:16/ نومبر ( ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے 16 نومبر کو دواؤں کی آن لائن فروخت سے متعلق ایک پالیسی بنانے کا حکم مرکزی حکومت کو دیا ہے۔ عدالت نے اس کے لیے مرکز کو 8 ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ کارگزار چیف جسٹس منموہن اور جسٹس منی پشکرنا کی ڈویژنل بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ پانچ سال سے عدالت میں زیر التوا ہے۔ اب مرکزی حکومت کو اس تعلق سے پالیسی لانے کا آخری موقع دیا جا رہا ہے۔عدالت نے کہا کہ اگر اس حکم پر عمل نہیں کیا گیا تو معاملے میں متعلقہ جوائنٹ سکریٹری کو سماعت کی اگلی تاریخ کو عدالت میں ذاتی طور پر موجود رہنا ہوگا۔

اس معاملے میں مرکزی ھکومت کی طرف سے پیش ہوئے وکیل کیرتیمان سنگھ نے کہا کہ دواؤں کی آن لائن فروخت سے متعلق 28 اگست 2018 کے نوٹیفکیشن پر ابھی غور و خوض اور مشورہ کا عمل چل رہا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ’’چونکہ پانچ سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، یہ مرکز کے لیے پالیسی تیار کرنے کے لیے مناسب وقت ہے۔‘‘

پھر عدالت نے 8 ہفتہ میں پالیسی تیار کرنے کا ایک آخری موقع دینے کی بات کہی۔ ساتھ ہی کہا کہ اگر دواؤں کی آن لائن فروخت کے سلسلے میں پالیسی مقررہ وقت میں نہیں بنائی گئی تو اگلی سماعت میں جوائنٹ سکریٹری کو خود عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے آن لائن دواؤں کی غیر قانونی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔

عرضیوں میں ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس رول میں مزید ترمیم کرنے کے لیے مرکزی وزارت برائے صحت و خاندانی فلاح کے شائع مسودے کو بھی چیلنج دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ دسمبر 2018 میں ہائی کورٹ نے دواؤں کی آن لائن فروخت پر روک لگانے کا حکم جاری کیا تھا، کیونکہ ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 اور فارمیسی ایکٹ 1948 کے تحت اس کی اجازت نہیں تھی۔

اتنا ہی نہیں، اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک حکم عدولی عرضی بھی داخل کی گئی ہے جس میں دواؤں کی آن لائن فروخت جاری رکھنے کے لیے ای-فارمیسی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس عرضی میں عدالتی حکم کے باوجود قصوروار ای-فارمیسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے لیے مرکز کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading