ممبئی ۔ ۴۱ جون ۔ (ورق تازہ نیوز) مدھیہ پردیش کے سندھوا پولیس اسٹیشن میں درج شدہ دہشت گردانہ معاملہ جو کہ کھنڈوہ جیل ٹوڑنے سے منسلک ہے اور جس میں عمیر ڈندوتی ،اسماعیل ماشالکر صادق لنجے ،عرفان ناگوری سمیت ۸ ملزمین پر مقدمہ در ج ہے ،یہ کےس بھوپال اے ٹی ایس کو منتقل کیا گیا ہے اور اس کی سماعت بھو پال خصوصی عدالت میں برق رفتاری سے جا ری ہے جس میںبھوپال اے ٹی ایس کا جھوٹ دن بدن نئے طریقہ سے بے نقاب ہو تا جا رہا ہے ۔آج ےہاں اس مقدمہ کی سماعت کے دوران اے ٹی ایس کے اعلی عہدیدار راجیس سنہا کی۴ گھنٹہ طویل گواہی اور بحث کے درمیان دفاع کی زوردار جرح سے اے ٹی ایس کی قلعی کھل گئی اور اسکا جھوٹ عدالت کے سامنے مزید بے نقاب ہو گیا ۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔ اس مقدمہ کے دفاعی وکیل سینیر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اے ٹی ایس کا یہ دعوی ہے کہ ہمارے آفیسران نے ملز مین کی نشان دہی پراڑیسہ جاکر انڈین ایوڈنس ایکٹ دفعہ ۷۲ کے تحت بر آمدگی کی ہے ۔جب کہ اڑیسہ جاکر ضبطی عمل میں لانے والے اے ٹی ایس افسر راجیس سنہا نے بھری عدالت کے سامنے اس بات کا کھلا انکشاف کیا کہ ملزم ان کے ساتھ کبھی آئے ہی نہیں ،اور نہ ہی بر آمدگی اور تلاشی کے دوران ان کے پاس ملز مین کی جا نب سے دیا ہوا کوئی بیان تھا۔ اور یہ بھی بتانے سے قاصر رہے کہ اڑیسہ میں ان دنوں ان کا قیام کس جگہ رہا ،اور نہ ہی وہ ضبط شدہ سامان بھوپال ساتھ لائے ،یہ اور اس جےسے دیگر گواہوں کے بیانات سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ محض شک کی بنیاد پر ان ملز مین کو پھنسایا گیا ہے ۔اس موقع پر جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ اس مقدمہ میں پیش کردہ تمام گواہوں کی گواہیوں کا اگر باریک بینی سے جا ئزہ لیا جائے ۔تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ مدھیہ پردیش اے ٹی ایس نے سبھی قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر جسے چاہے جھوٹے اور من گھڑت الزامات میں ملوث کر دیتی ہے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے جس کی وجہ انہیں برسوں تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ ہماری لیگل ٹیم اس مقدمہ کی عدالت میں مضبوط طریقے پر پےروی کر رہی ہے ہمیں اللہ کی ذات سے امید ہے تاخیر سہی لیکن ان ملز مین کو انصاف ضرور ملے گا ۔