دہلی میں دیوالی کے بعد سے جو فضائی آلودگی بڑھی ہے اور دفاتر جانے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ اسکول جانے والے بچوں کو سانس لینے میں جو پریشانی ہو رہی ہے، وہ دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ جمعرات کے بعد جمعہ کی صبح بھی چاروں طرف دھند چھایا ہوا نظر آیا۔ یہ دھند آلودگی پر مبنی تھی اور سڑک پر لوگوں کا چلنا محال ہو رہا تھا۔ جو لوگ میٹرو میں سفر کر رہے تھے، انھیں کچھ راحت ضرور تھی، لیکن میٹرو سے نکلتے ہی مسافروں کو ناک سکوڑتے یا پھر رومال و ماسک سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
جمعہ کی صبح کی صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو آنند وہار کا اے کیو آئی 691 پہنچ گیا ہے جو کہ دہلی میں اس وقت سب سے زیادہ ہے۔ میٹر بیونڈ انڈیکس جو کچھ ظاہر کر رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہوا کے معیار کی پیمائش کرنے والا میٹر اس کے بعد کام نہیں کرے گا۔ دھند کی موٹی چادر آنند وہار نے اوڑھ رکھی ہے اور آس پاس کی بلڈنگ بھی نظر نہیں آ رہی۔ خطرناک صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آنند وہار کا انڈیکس دیوالی کے بعد 500 سے کم گیا ہی نہیں۔ دیوالی سے قبل کی بات کی جائے تو یہ انڈیکس 300 سے اوپر نہیں گیا تھا۔
#Delhi: Major pollutants PM 2.5 at 500 and PM 10 at 500 both in 'severe' category in Lodhi Road area, according to the Air Quality Index (AQI) data. pic.twitter.com/AfzXuDUxuH
— ANI (@ANI) November 1, 2019
جہاں تک ہوا کے معیار کی پیمائش کا سوال ہے، صفر سے 50 کے درمیان اے کیو آئی (ائیر کوالیٹی انڈیکس) رہتی ہے تو اسے ’اچھا‘ تصور کیا جاتا ہے۔ 51 سے 100 کو ’اطمینان بخش‘ اور 101 سے 200 اے کیو آئی کو ’درمیانہ‘ مانا جاتا ہے۔ اس سے آگے بڑھنے پر ہی حالات تشویشناک ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 201 سے 300 اے کیو آئی کو ’خراب‘ اور 301 سے 400 اے کیو آئی کو ’انتہائی خراب‘ قرار دیا جاتا ہے۔ 401 سے 500 پہنچنے پر ’سنگین‘ اور 500 سے زیادہ ہونے پر ’انتہائی سنگین‘ یعنی ایمرجنسی کے خانے میں رکھا جاتا ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو آنند وہار کا اے کیو آئی (691) ایمرجنسی والی حالت ہے۔ کچھ یہی صورت حال دہلی کے دیگر علاقوں کا بھی ہے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ بڑھی ہوئی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کوئی بڑا قدم نہ ہی ریاستی حکومت کے ذریعہ دیکھنے کو مل رہی ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت کی طرف سے۔ حیرت انگیز یہ بھی ہے کہ سیاسی لیڈروں نے اس معاملے پر کوئی مثبت قدم اٹھانے کی جگہ سیاست کرنی شروع کر دی ہے۔ ایک طرف دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کر کے ہریانہ اور پنجاب حکومت کو فضائی آلودگی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے تو دوسری طرف بی جے پی کے سینئر لیڈر وجے گویل آج ایک دن کی بھوک ہڑتال کرنے والے ہیں۔ عآپ اور بی جے پی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع جانے نہیں دینا چاہتے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
