دبئی: نیوزی لینڈ دہشتگرد حملہ پر خوشی منانے والے ہندوستانی نوجوان کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا، ملک چھوڑنے کا دیا حکم

نئی دہلی: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہوئے دہشت گرد حملے میں 50 نمازی شہید ہوئے ہیں،جس کا پوری دنیا نے غم منایا ہے،اس حملے میں شہید ہونے والوں کے ورثاء سے دنیا بھر سے ہمدردی جتائی گئی ہے،لیکن مسلمانوں پر ہوئے حملے پر خوشی منانا دبئی میں نوکری کر رہے بھارت کے رونی سنگھ کو بھاری پڑ گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اسکا کمینٹ وائرل ہونے کے بعد متحدہ عرب امارت کی کمپنی نے اپنے ملازم رونی سنگھ کو برطرف دیا اور فی الفور بھارت واپس بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے۔ بتا دیں کی پچھلے ہفتے نیوزی لینڈ میں ہوئے مسلمانوں کی اجتماعی قتل عام کا جشن منانے کے الزام میں کمپنی نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔


یہ بھی پڑھیں

نیوزی حملہ کے بعد: مائیکل جیکسن کی ساتھی سنگر ڈیلا مائلس نے قبول کیا مذہب اسلام، جانئے کیا کہا ؟


یو اے ای کی کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے که ہمارے پاس سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کی کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہم جیرو ٹورلینس پالیسی کو اپنا رہے ہیں اور اسکی کے نتیجہ میں ہم نے اس شخص کا کنٹریکٹ فی الفور ختم کر دیا ہے۔

اور آگے کی جانچ کے لئے متعلقہ افسران کو سونپ دیا گیا ہے۔ کمپنی کے منیجر نے میڈیا کو بتایا کی ملازم کو یو اے ای سرکار نے بھی جلد از جلد اپنے وطن واپس جا نے کا حکم دیا ہے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading