مکہ کے قریب خیموں کے شہر منٰی میں عازمین کی آج جمعے کے روز آمد کے ساتھ ہی اس سال کے مناسک حج کا آغاز ہو گیا ہے۔ غزہ کی جنگ کے پس منظر میں اور شدید گرمی کے باوجود اس سال پندرہ لاکھ سے زائد مسلمان فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔
مکہ کے قریب خیموں کے شہر منٰی میں عازمین کی آج جمعے کے روز آمد کے ساتھ ہی اس سال کے مناسک حج کا آغاز ہو گیا ہے۔ غزہ کی جنگ کے پس منظر میں اور شدید گرمی کے باوجود اس سال پندرہ لاکھ سے زائد مسلمان فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔
اس سال پاکستان سے تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار اور بھارت سے ایک لاکھ 75 ہزار عازمین سمیت دنیا بھر سے پندرہ لاکھ سے زائد مسلمان یہ مذہبی فریضہ ادا کر رہے ہیں، جن میں چار لاکھ مقامی سعودی شہری بھی شامل ہیں۔ امسالہ حج کا انعقاد ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں حالات بہت کشیدہ ہیں اور دوسری طرف مکہ میں شدید گرمی پڑ رہی ہے۔
تیاریاں مکمل، مناسک حج کا آغاز کل سے
مراکش سے تعلق رکھنے والی 75 سالہ زہرہ بن زہرہ نے پر نم آنکھو ں سے کہا، ”ہمارے بھائی بہن مر رہے ہیں اور ہم انہیں مرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘
دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا سے فریضہ حج کے لیے آئیں بلندا الہام نے کہا، ”ہم ہر روز دعاکرتے ہیں کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ختم ہو جائے۔‘‘
غیر ملکی عازمین حج مکہ کے تاجروں کے لیے راحت کا باعث
فلسطینی اتھارٹی نے بتایا کہ اس سال مقبوضہ مغربی کنارے سے 4200 فلسطینی حج کے لیے گئے ہیں۔ سعودی حکومت کی دعوت پر مزید ایک ہزار ایسے فلسطینی بھی حج کے لیے آئے ہیں جن کے اعزہ یا اقارب غزہ کی جنگ میں ہلاک یا زخمی ہو گئے۔ یہ فلسطینی رفح کراسنگ بند ہونے سے پہلے ہی مصر پہنچ گئے تھے۔
سعودی عرب کے مذہبی امور کے وزیر توفیق الربیعہ نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ”کسی سیاسی سرگرمی‘‘ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ جو زائرین فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرناچاہتے ہیں، وہ ایسا کیسے کریں گے۔
25 لاکھ مسلمان اس سال حج کریں گے، حکام
کووڈ انیس کی عالمی وبا کی وجہ سے عائد سفری پابندیوں اور عمر کی حد ختم کر دیے جانے کے بعد گزشتہ سال اٹھارہ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے حج کیا تھا۔ سعودی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اسی ہفتے منگل کے روز تک پندرہ لاکھ سے زائد مسلمان حج کے لیے مکہ پہنچ چکے تھے۔
گزشتہ کئی برسوں کی طرح ا س سال بھی حج سخت گرمی کے موسم میں کیا جا رہا ہے۔ حکام نے اوسط درجہ حرارت 44 ڈگر ی سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ سعودی حکام نے حجاج کو سخت گرمی سے راحت پہنچانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں مِسٹِنگ سسٹم اور ہیٹ ریفلیکٹیو روڈ کورنگز شامل ہیں۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات
سعودی حکومت نے حج کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ ان میں اسمارٹ سرویلینس کیمروں کی تنصیب اور سڑکوں کی ڈرونز کے ذریعے نگرانی بھی شامل ہیں۔
ماحول دوست حج کا انعقاد
سعودی سیکورٹی چیف جنرل فیاض الرویلی نے کہا کہ عازمین حج کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح اور ایک ‘ریڈ لائن‘ ہے، جسے پار کرنے کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جائے گی۔
سعودی حکام نے مکہ شہر کو جانے والی تمام سڑکوں پر پہلے ہی چوکیاں قائم کر دی ہیں، تاکہ جن افراد کے پاس حج پرمٹ نہ ہوں، انہیں آگے جانے سے روکا جا سکے۔ حج سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ محمد البسامی نے بتایا کہ بغیر حج پرمٹ کے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جعلی ”نسک‘‘ کارڈ فروخت کرنے والے غیر ملکی گروہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ نو افراد کے اس گروہ میں سات پاکستانی اور دو بھارتی تارکین وطن شامل ہیں۔ اس گروہ کے ٹھکانے سے جعلی حج اجازت نامے، جعلی مہریں اور جعلسازی میں استعمال ہونے والی دیگر اشیاء ضبط کر لی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی حکومت نے عازمین حج کے سفر کو آسان بنانے کے لیے اس سال ”نسک کارڈ‘‘ جاری کیے ہیں۔
مناسک حج کیا ہیں؟
حج کے پہلے دن عازمین منیٰ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر اگلے روز وہ حج کے رکن اعظم ‘وقوف عرفہ‘ کے لیے میدان عرفات روانہ ہوں گے جہاں وہ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔
وقوف عرفہ کے بعد نماز مغرب پڑھے بغیر عازمین میدان عرفات سے مزدلفہ پہنچیں گے جہاں وہ ایک ساتھ مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کریں گے۔
مزدلفہ سے ‘شیطان کو مارنے کے لیے‘ کنکریاں چنیں گے۔ رات کھلے آسمان تلے گزارنے کے بعد دس ذی الحجہ کو نماز فجر کی ادائیگی اور طلوع آفتاب کے فوراً بعد منیٰ روانہ ہوں گے۔ جہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد عازمین جمرات جائیں گے اور ‘بڑے شیطان‘ کو کنکریاں ماریں گے۔ عازمین اس کے بعد قربانی کر کے بال منڈوا کر احرام کھول دیں گے۔
احرام کھولنے کے بعد حجاج دس سے بارہ ذی الحجہ کے درمیان کسی بھی وقت خانہ کعبہ آ کر طواف کر سکتے ہیں۔ طواف زیارت میں خانہ کعبہ کے سات چکر اور سعی شامل ہے۔ اسی طرح گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو بڑے، درمیانے اور چھوٹے شیطان کو بھی کنکریاں مارنا مناسک کا حصہ ہے۔
اسلامی عبادات کا اہم رکن: حج
سعودی عرب کے مقدس مقام مکہ میں اہم اسلامی عبادت حج کی ادائیگی ہر سال کی جاتی ہے۔ حج کے اجتماع کو بڑے مذہبی اجتماعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ رواں برس کے حج کے دوران سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
زائرین سعودی شہر مکہ میں واقع خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں۔ یہ اسلامی مذہب کا سب سے مقدس ترین مقام ہے۔ ہر مسلمان پر ایک دفعہ حج کرنا واجب ہے، بشرطیکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہوا۔ سن 1941 میں حج کرنے والوں کی تعداد محض چوبیس ہزار تھی جو اب سفری سہولتوں کی وجہ سے کئی گنا تجاوز کر چکی ہے۔ رواں برس یہ تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے۔
خانہٴ کعبہ کا طواف
دوران حج زائرین مختلف اوقات میں خانہٴ کعبہ کا طواف کرتے ہیں اور حجر اسود کو چومنے کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔ ایک طواف کی تکمیل میں سات چکر شمار کیے جاتے ہیں۔ استعارۃً خانہ کعبہ کو اللہ کا گھر قرار دیا جاتا ہے۔ زائرین طواف کے دوران بلند آواز میں دعائیہ کلمات بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔
اسی لاکھ قرآنی نسخے
سعودی عرب کے محکمہٴ حج کے مطابق ہر روز مختلف زبانوں میں ترجمہ شدہ قرآن کے اسی لاکھ نسخے مختلف ممالک کے زائرین میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ مقدس مقامات میں افراد کو حسب ضرورت مذہبی وظائف کی کتب بھی پڑھنے کے لیے دی جاتی ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D. Yasin
دو ہزار اموات
حج کے دوران دہشت گردی کے خطرے کو سعودی سکیورٹی حکام کسی صورت نظرانداز نہیں کرتے لیکن مناسک حج کے دوران بھگدڑ مچھے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سب سے خوفناک سن 2015 کی بھگدڑ تھی، جس میں دو ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ سعودی حکام اس بھگدڑ میں ہلاکتوں کی تعداد محض 769 بیان کرتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Saudi Press Agency
خصوصی ایمبیولینس سروس
مناسک حج کی ادائیگیوں کے دوران پچیس مختلف ہسپتالوں کو چوکس رکھا گیا ہے۔ تیس ہزار ہنگامی طبی امدادی عملہ کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے الرٹ ہوتا ہے۔ ہنگامی صورت حال کے لیے 180 ایمبیولینسیں بھی ہر وقت تیار رکھی گئی ہیں۔ شدید گرمی میں بھی کئی زائرین علیل ہو جاتے ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/K. Sahib
تین ہزار وائی فائی پوائنس
رواں برس کے حج کے دوران سولہ ہزار ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور تعمیر کیے گئے ہیں۔ انہیں تین ہزار وائی فائی پوائنٹس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس طرح رواں برس کے حج کو ’سمارٹ حج‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔
تصویر: Reuters/Z. Bensemra
ہزاروں خصوصی سول ڈیفنس اہلکاروں کی تعیناتی
رواں برس کے حج کے دوران ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ اٹھارہ ہزار شہری دفاع کے رضاکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ اہلکار مختلف مقامات پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D. Yasin
حاجیوں کی آمد کا سلسلہ
مناسک حج کی عبادات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے بذریعہ ہوائی جہاز اور ہمسایہ ممالک سے زمینی راستوں سے لاکھوں افراد سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ صرف چودہ ہزار انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک پروازیں سعودی ہوائی اڈوں پر اتری ہیں۔ اکیس ہزار بسوں پر سوارہو کر بھی زائرین سعودی عرب پہنچے ہیں۔