خوشخبری ! متحدہ عرب امارات نے ہندوستانیوں کے لئے سفر کو بنایا  مزید آسان، ویزا قوانین میں کی بڑی تبدیلی

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای)نے ویزا قوانین میں ایک بڑی تبدیلی کی ہے اور ہندوستانی شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول (VoA) پالیسی کو بڑھا دیا ہے۔ 13 فروری 2025 سے لاگو ہونے والی اس نئی پالیسی کے تحت، ہندوستانی مسافر اب مزید چھ ممالک کے قانونی ویزا، رہائشی اجازت نامہ یا گرین کارڈ کی بنیاد پر متحدہ عرب امارات میں ویزا آن ارائیول حاصل کر سکتے ہیں۔

اب سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے درست ویزا رکھنے والے ہندوستانی شہری متحدہ عرب امارات میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA)، یورپی یونین (EU) ممالک اور برطانیہ (UK) کے ویزا رکھنے والوں کے لیے دستیاب تھی۔

متحدہ عرب امارات اپنے عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے اور کاروباری ماحول کے ساتھ ہندوستانیوں کے لیے ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ نئی پالیسی ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفر اور کاروباری مواقع کو مزید فروغ دے گی۔

ہندوستانی مسافروں کو متحدہ عرب امارات میں ویزا آن ارائیول حاصل کرنے کے لیے درج ذیل شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

اہلیت کا معیار

مسافروں کے پاس کم از کم 6 ماہ کے لیے قانونی ہندوستانی پاسپورٹ ہونا چاہئے ۔

مسافر کے پاس سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، امریکہ، برطانیہ یا یورپی یونین کے کسی بھی ملک کا درست ویزا، رہائشی اجازت نامہ یا گرین کارڈ ہونا چاہئے ۔

آمد پر متحدہ عرب امارات کی امیگریشن چوکی پر مقررہ ویزا فیس ادا کرنی ہوگی۔

ویزا فیس اور دورانیہ

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس سہولت کے تحت ویزا فیس اور اس کی مدت کی وضاحت کردی ہے۔

14 دن کا ویزا: 100 در ہم (Dh) ( تقریبا 2,270 روپے)

14 دن کی توسیع کی فیس: 250 درہم (تقریبا 5,670 روپے)

60 دن کا ویزا: 250 درہم(تقریبا 5,670 روپے)

UAE کی شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سکیورٹی (ICP) کے وفاقی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سہیل سعید الخیلی نے اس اقدام کو ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کا حصہ قرار دیا۔خیلی کے مطابق یہ پالیسی ہندوستانی شہریوں کے لیے سفر کو آسان اور سہل بنائے گی۔ اس سے سیاحت، رہائش اور روزگار کے نئے مواقع کو فروغ ملے گا۔ متحدہ عرب امارات کو عالمی مالیاتی، سیاحت اور اقتصادی مرکز کے طور پر مزید پرکشش بنائیں گے۔ یہ ہندوستانی شہریوں کو کاروبار، سرمایہ کاری اور اسٹارٹ اپ کے مزید مواقع فراہم کرے گا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading