آل انڈیا دلت مسلم او بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی نائب صدر محمد رفیق کامرکزی حکومت سے مطالبہ
حیدرآباد۔(راست) آل انڈیا دلت مسلم او بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی نائب صدرمحمد رفیق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد بڑھانے کے لیے دیرینہ مطالبہ کے پیش نظر خواتین ریزرویشن بل پاس ہوگیا ہے لیکن اسے قانون بناکر نافذ کرنے سے پہلے اقلیتی طبقات کی خواتین کے لیے کوٹہ بھی لازمی طور پر شامل کیاجانا چاہئے۔
اقلیتی طبقات کی خواتین کو پارلیمنٹ جانے کا موقع دیاجانا چاہئے۔ خواتین ریزرویشن بل کا مسئلہ کئی مرتبہ پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا یہ بھی مشورہ دیا گیا تھا کہ 33فیصد کوٹہ کے اندر ایس سی، ایس ٹی اور اینگلو انڈینز کے لیے ذیلی ریزرویشن کی بھی تجویز رہے گی۔ پنچایت اور میونسپل انتخابات کی طرح، روٹیشن کا اصول لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں ریزرو سیٹوں پر لاگو ہوگا۔ لیکن اقلیتوں کے لیے کوٹہ نہیں رکھا گیا۔ خواتین ریزرویشن کی مدت 15 سال ہوگی۔
موجودہ نشستوں کی بنیاد پر سبھا میں 181 نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ اگر اس میں 33 فیصد کوٹہ اقلیتی پسماندہ طبقات کو دیا جاتا تو ایس سی کی 84 میں سے 28 اور ایس ٹی کی 47 میں سے 16 سیٹیں خواتین کے لیے مختص ہوتی۔ 137 نشستیں جنرل اور او بی سی خواتین کے لیے مخصوص ہوتی۔ اس بل کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں مسلم اوراوبی سی(دیگرپسماندہ طبقات کی) خواتین کیلئے کوٹہ نہیں ہے۔ اب تک لوک سبھاکے17انتخابات ہوئے ہیں
جن میں 8992ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ان کے منجملہ صرف 520مسلمان تھے ۔ مرکزی حکومت اعلیٰ ذات کی خواتین کی نمائندگی بڑھانا چاہتی ہے۔ وہ او بی سی خواتین اور مسلم خواتین کی نمائندگی نہیں چاہتے۔ 690 خواتین ممبران پارلیمنٹ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئی ہیں اور ان میں سے صرف 25 مسلم کمیونٹی سے آئی ہیں۔ او بی سی اور مسلم خواتین، جن کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کم ہے، خواتین ریزرویشن بل میں کوئی کوٹہ کیوں نہیں دیا گیا ہے۔ بل کے پاس ہونے سے خواتین کی تعداد پارلیمنٹ میں بڑھے گی لیکن او بی سی اور مسلم خواتین کی تعداد کیوں نہیں بڑھائے جارہی ہے۔
مسلم خواتین آبادی کا سات فیصد ہیں، لیکن اس لوک سبھا میں ان کی نمائندگی صرف 0.7 فیصد ہے۔آل انڈیا دلت مسلم او بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی نائب صدرمحمد رفیق نے مزید کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے قبل ہی اس میں اقلیتی خواتین کے تحفظات کو شامل کرنا چاہئے۔ مرکزی حکومت کو فوری اس جانب توجہ دینا چاہئے تاکہ دلت ، مسلم ، او بی سی خواتین کے ساتھ انصاف ہوسکے۔