غزہ:12 نومبر: فلسطین کے غزّہ شفاءہسپتال کی زچہ بچہ ڈاکٹر فضیہ ملخص نے کہا ہے کہ "ہمیں بچائیں ، اس جنگ کو روکیں ورنہ ہم سب مر جائیں گے”۔ ڈاکٹر فضیہ نے ہسپتال سے نکلنے والوں پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ اور ہسپتال کی صورتحال کے بارے میں بیانات جاری کئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہسپتال میں بجلی نہیں ہے۔ انتہائی نگہداشت یونٹوں میں انکیوبیٹروں میں رکھے گئے بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرہ سنجیدہ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
انتہائی نگہداشت یونٹ میں 60 نومولود بچے موجود ہیں جن میں سے 39 کو انکیوبیٹروں میں رکھا گیا ہے۔ ایک بچہ بعد دوپہر وفات پا گیا ہے۔ باقی بچے بھی آگے پیچھے وفات پا جائیں گے”۔فضیہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ہسپتال کے اطراف کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ جو ہسپتال سے نکلتا ہے اسے گولی مار دیتے ہیں۔ یہی نہیں ہسپتال کے اندر ایک یونٹ سے دوسرے یونٹ میں جانے والوں کو بھی مار رہے ہیں۔ ہسپتال کا باغیچہ اور ایمرجنسی کا داخلی حصہ شہیدوں سے بھرا ہوا ہے۔ صورتحال بے حد مخدوش اور نازک ہے۔ اسے بیان کرنا دشوار ہے”۔انہوں نے کہا ہے کہ اس سے قبل ہسپتال کے احاطے میں 60 ہزار افراد موجود تھے۔
حالیہ 2 دنوں میں ہسپتال پر اسرائیلی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔ مریضوں، ڈاکٹروں، نرسوں اور ہسپتال کے عملے سمیت تقریباً 17 ہزار افراد اب بھی ہسپتال میں موجود ہیں”۔انہوں نے کہا ہے کہ بعض افراد ہسپتال سے فرار میں کامیاب رہے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جو راستوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ نہ پانی ہے نہ بجلی نہ کھانا۔ ہسپتال ایک جیل بن گیا ہے۔ باغیچے میں 100 سے زیادہ شہیدوں کی لاشیں ہیں۔ شہداءکو باغیچے میں دفن کرنے والوں کو بھی شہید کر دیا گیا ہے”۔ڈاکٹر فضیہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی ٹینک ہسپتال کے باغیچے تک آ گئے ہیں۔ ہسپتال سے ان کا فاصلہ ایک میٹر بھی نہیں ہے۔ہسپتال کے اطراف اسرائیلی فوج سے بھرے ہوئے ہیں۔
اوپر سے جنگی طیارے بمباری کر رہے ہیں۔ ہسپتال محاصرے میں ہے اور کوئی انٹر نیٹ رابطہ نہیں ہے۔ خدا کا واسطہ ہمیں بچائیں۔ یہ جنگ روکیں نہیں تو ہم سب مر جائیں گے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں۔ صورتحال بہت خراب ہے ہمیں بچائیں۔”ایک اطلاع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ علاقہ کی صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ دواخانوں اور طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایاجارہا ہے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کی وجہ نہ صرف معمول کی زندگی درہم برہم ہوگئی ہے بلکہ دواخانوں میں مریضوں کے لئے بھی ناقابل بیان مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
برقی نہ ہونے کی وجہ دواخانوں کی کارکردگی مفلوج ہوتی جارہی ہے۔حملوں کی وجہ کئی افراد نقل مقام کرنے کیلئے مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ کئی ایسے دواخانے ہیں جہاں پر مریضوں کے لئے درکاراشیاء کی قلت ہوگئی ہے۔ وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے آج یہاں ٹیلی ویژن پرخطاب کرتے ہوئے جنگ بندی کے لئے کی جانی والی اپیل کو مستردکردیا اور کہا کہ جب تک 239 افراد جنہیں حماس نے 7اکتوبر کو یرغمال بنالیا ہے رہا کئے جانے تک ہم جنگ بندی پرغورنہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم‘حماس کے خلاف پوری طاقت سے مقابلہ کررہے ہیں۔ وزیراعظم بنجامن نتن یاہونے مزید کہاہے کہ جنگ بندی کیلئے مختلف گوشوں سے دباؤ ڈالاجارہا ہے لیکن ہم کو صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔
اس دوران بتایاگیا ہے کہ شفاء ہاسپٹل کے قریب شدید لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔غزہ پٹی اور غزہ شہر میں رہنے والے افراد کو رات تمام فضائی حملوں اور شلباری کا سامنا کرنا پڑا۔ شفاء ہاسپٹل کے قرب وجوار میں بھی شدید فضائی حملے کئے جارہے ہیں۔ حملوں کی وجہ باضابطہ دواخانے میں بھی پناہ لئے ہوئے ہیں ان میں سے ایک شخص احمد البورش نے بتایاہے کہ حملوں کی وجہ سنسنی اور خوف طاری رہتا ہے۔دواخانہ میں ایندھن کا مسئلہ بھی توجہ طلب ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ مریضوں کی دیکھ بھال اور نمٹنا مشکل ہے۔ یہ بات وزارتِ صحت نے بتائی اور کہا کہ مریضوں کو خصوصاً آئی سی یومیں رکھے گئے مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔
وزارت نے بتایا ہے کہ کئی افراد کی موت ہورہی ہے۔ اور کئی افراد مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ڈائرکٹرہاسپٹل محمدابوسیلمیا نے فون پر بتایاہے کہ دھماکوں اور بندوقوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ اسرائیل کی فوج ان افراد کو نشانہ بنارہی ہے جوکہ دواخانہ کے باہر اور اندر نظرآرہے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم نے صورتحال پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں فوری توجہ دی جانی چاہئیے۔