حیدرآباد سے اکبر اویسی نے بھی پرچہ نامزدگی کیا داخل» اسد اویسی اورنگ آباد سے لڑسکتے ہیں لوک سبھا چناؤ ؟

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے،جسکے بعد انہوں نے اپنے پرچار کی رفتار بھی تیز کردی ہے،اور لوک سبھا حلقہ میں عوامی رابطہ شروع کر دیا ہے۔

اسی بیچ ایک خبر آئی ہے که حیدرآباد لوک سبھا حلقہ سے اسدالدین اویسی کے پرچہ بھرنے کے دو دن بعد آج بدھ کو یہاں اکبرالدین اویسی نے بھی اس سیٹ اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ میڈیا میں خبر آنے کے بعد مانو ہڑکمپ مچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اکبرالدین اویسی ہی حیدرآباد سے چناؤ لڑینگے۔ پہلے یہ صاف تھا کی اسد اویسی حیدرآباد سے لوک سبھا سیٹ سے چناؤ لڑینگے۔

لوکل میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کی اسدالدین اویسی مہاراشٹر کے اورنگ آباد حلقہ لوک سبھا سے چناؤ لڑ سکتے ہیں۔ تو اکبرالدین اویسی حیدرآباد سے چناؤ لڑینگے ۔کیونکہ اورنگ آباد حلقہ لوک سبھا کیلئے ابھی تک مجلس نے کسی امیدوار کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے. وہیں خبروں کے مطابق امتیاز جلیل کا بھی نام ابھی تک ظاہر نہ کرنے کی وجہ بھی سامنے نہیں آئی ہے.

جانکاری کے لئے بتا دیں ایم آئی ایم اورنگ آباد میں کافی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ وہیں مہاراشٹر میں پرکاش امبیڈکر کی پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن کی وجہ سے یہ سیٹ اویسی کے لئے آسان بھی دکھ رہی ہے۔ اس سیٹ سے پہلے AIMIM کے اورنگ آباد ایم ایل اے امتیاز جلیل نے بھی لوک سبھا کے لئے چناؤ لڑنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

دلہا میں ہی ہوں اور مقابلہ مجھ سے ہی ہے – بیرسٹر اویسی

حیدرآباد لوک سبھا حلقہ سے مجلس کے فلور لیڈر جناب اکبر الدین اویسی کی جانب سے بھی پرچہ نامزدگی داخل کرنے سے متعلق میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا میں آج دن بھر جاری تبصروں کو فل اسٹاپ لگاتے ہوئے صدر مجلس ورکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اس خصوص میں پارٹی کارکنوں اور محبان مجلس میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرتے ہوئے کہا کہ” آج دن بھر میڈیا والے چلا رہے ہیں کہ اکبر صاحب بھی پرچہ نامزدگی داخل کئے ۔یہ ہمارا بیاک اپ پلان ہے ہم کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑتے ۔یہ ایک طریقہ ہے اسے زیادہ لیک مت کرو کیونکہ دلہا میں ہی ہوں اور مقابلہ مجھ سے ہی ہے “

حالانکہ، حیدرآباد سے اکبرالدین اویسی نے پرچہ داخل کیا تو یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے که اسدالدین اویسی اپنے چھوٹے بھائی اکبرالدین اویسی کے لئے حیدرآباد سیٹ چھوڑنے کو تیار ہیں اور خود اورنگ آباد سے چناؤ لڑینگے۔ بتا دیں اویسی کی یہ پرانی سیٹ ہے۔ اس سیٹ سے اویسی تین بار ایم پی رہ چکے ہیں۔

سال 2004 ، 2009 اور 2014 میں اس حلقہ کی قیادت کر چکے ہیں۔ حیدرآباد کو AIMIM کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ اسدالدین اویسی کے والد نے بھی یہیں سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔

لیکن ہمارے ذرائع کے مطابق اکبرالدین اویسی کا پرچہ ایک ڈمی امیدوار کے روپ میں ہے،تاکہ اسدالدین اویسی کی تشہیر اور پولنگ بوتھ پر مدد مل سکے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading