حکومت کسانوں کے لئے کام نہیں، صرف بڑی بڑی باتیں کرتی ہے: اپوزیشن

نئی دہلی: اپوزیشن نے حکومت پر کسانوں کے لئے کام کرنے کے بجائے صرف بڑی بڑی باتیں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے تین سال میں کسانوں کی آمدنی بالکل نہیں بڑھی ہے ایسے میں وہ سال 2022 تک ان کی آمدنی کیسے دوگنی کرے گی۔ وہیں برسر اقتدار پارٹی نے دعوی کیا کہ پچھلے پانچ سال میں کسانوں اور غریبوں کی تقدیر بدل گئی ہے۔

زراعت اور کسان فلاح و بہبود وزارت سے متعلق مطالبات زر پر لوک سبھا میں منگل کو بحث شروع کرتے ہوئے کانگریس کے اتم کمار ریڈی نے کہا، ’’مالی سال 17-2016 کے بجٹ تقریر میں اس وقت کے وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کی جائےگی۔ چھ سال میں آمدنی دوگنی کرنے کےلئے اس کی سالانہ شرح نمو 13 فیصد رہنی چاہیے تھی۔ اقتصادی سروے کے مطابق پچھلے تین برسوں میں کسانوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں آپ اگلے تین سال میں کس طرح ان کی آمدنی دوگنی کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے لئے کام کرنے کے بجائے صرف بڑی بڑی باتیں کی ہیں۔ کسانوں کی حالت ابتر ہے۔ اس نے فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) لاگت کا ڈیڑھ گنا دینے کا دکھاوا کیا ہے۔ لاگت کا حساب کم کرکے کیا گیا ہے۔ لاگت کے حساب کےلئے سوامی ناتھن کمیٹی کے فارمولے کو نہیں اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جس ایم ایس پی کا اعلان کیا ہے کسانوں کو اتنا بھی نہیں ملا رہا۔

ریڈی نے کہا کہ وزیراعظم کسان سمان نیدھی کے نام پر ایک سال میں ایک کسان کنبے کو چھ ہزار روپے کی اقتصادی مدد دینا ان کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم فصل بیمہ یوجنا سے نجی بیمہ کمپنیوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور صرف 26 فیصد کسان ہی منصوبے کا فائدہ لے پا رہے ہیں۔

انہوں نے زرعی کاموں میں منریگا کے استعمال اور زرعی مشینری،آلات، فرٹیلائزر اور کھاد کو اشیا اور خدمات ٹیکس سے آزاد کرنے یا کم از کم سب سے نچلے ٹیکس سلیب میں رکھنے کی صلاح دی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading